ریاض ۔11دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان امریکا اور چین دونوں کے ساتھ تعمیری تعلقات برقرار رکھنے کی بہترین پوزیشن میں ہے جس سے مستحکم ماحول اور متنوع بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے، موافقتی ایجنڈے کے لیے ترقیاتی شراکت داروں اور عالمی مالیاتی منڈیوں سے بیرونی مالیاتی معاونت ناگزیر رہے گی، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کی صورت میں پاکستان کا دیرینہ …
پاکستان امریکا اور چین دونوں کے ساتھ تعمیری تعلقات برقرار رکھنے کی بہترین پوزیشن میں ہے،موافقتی ایجنڈے کیلئے ترقیاتی شراکت داروں اور عالمی کیپٹل مارکیٹس سے بیرونی مالیاتی معاونت ناگزیر رہے گی، وزیرخزانہ محمداورنگزیب

مزید خبریں
ریاض ۔11دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان امریکا اور چین دونوں کے ساتھ تعمیری تعلقات برقرار رکھنے کی بہترین پوزیشن میں ہے جس سے مستحکم ماحول اور متنوع بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے، موافقتی ایجنڈے کے لیے ترقیاتی شراکت داروں اور عالمی مالیاتی منڈیوں سے بیرونی مالیاتی معاونت ناگزیر رہے گی، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کی صورت میں پاکستان کا دیرینہ شراکت دار ہے۔ وزیرخزانہ نے ان خیالات کااظہارسعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جمعرات کو گلوبل ڈویلپمنٹ فنانس کانفرنس مومینٹم 2025 کے موقع پر ’’موسمیاتی موافقیت ولچک، درکار سرمایہ کیسے یقینی بنائیں ‘‘کے عنوان سے منعقدہ اعلیٰ سطح کے سیشن میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلوں کے خطرات اور اس حوالہ سے مستقبل بین مالی حکمت عملی پرگفتگو کے دوران کہی۔
یہ سیشن عالمی مالیاتی رہنمائوں کی موجودگی میں ہوا جن میں اردن کی وزیر برائے منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون زینہ توکان، تاجکستان کے وزیر خزانہ قہورزادہ فیض الدین اور مغربی افریقی ترقیاتی بینک کے صدر سرگے ایکوئی تھے۔ سیشن میں ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے موسمیاتی موافقت کے بڑھتے ہوئے چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پاکستان میں حالیہ شدید موسمیاتی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے بڑھتی ہوئی حقیقت ہے جو جس سے مالی اورانسانی نقصانات کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے 2022ء میں آنے والے تباہ کن سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس سے تقریباً 30 ارب ڈالر کے نقصانات کااندازہ ہے۔
جاری سال میں سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی شدت اور تعدادمیں مسلسل اضافہ ہورہاہے ، پاکستان کو اس سال تقریباً آدھا فیصد جی ڈی پی گروتھ کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا، جو پہلے ہی دبائو کے شکار معیشت کے لیے مزید مشکلات پیدا کررہا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان نے کلی معیشت کے استحکام کے ذریعے اتنے مالیاتی اور بیرونی ذخائر قائم کر لیے ہیں کہ فوری امدادی اور بچائو کے اقدامات اپنے وسائل سے کیے جا سکیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تعمیر نو اور بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر بیرونی معاونت درکار ہے۔وزیرخزانہ نے پاکستان کے قومی ایمرجنسی سینٹر میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے جدید ابتدائی انتباہی نظام کی کامیاب پیش رفت کا بھی ذکر کیا جوماہانہ بنیادوں پر موسمیاتی پیش گوئیاں فراہم کررہاہے جس سے پیشگی منصوبہ بندی اور فوری ردعمل ممکن ہوگا تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اپنے وسائل اس وسیع پیمانے کی ضروریات کے لیے ناکافی ہیں جس کے لیے کثیرالجہتی شراکت داریوں اور نجی شعبے کی شمولیت ناگزیر ہے۔
ترقیاتی ضروریات اور موسمیاتی موافقت کے درمیان توازن سے متعلق سوال پروزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا کے سب سے زیادہ موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں سے ایک ہونے کے ناطے پاکستان کو ماحول کونقصان پہنچانے والی گیسوں کے اخراج میں کمی کی کوششیں جاری رکھنا ہوں گی تاہم اصل اور فوری ضرورت موافقت کیلئے درکار مالی معاونت کی ہے۔وزیرخزانہ نے عالمی بینک کے ساتھ حکومت پاکستان کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا حوالہ دیا جس کاحجم تقریباً 20 ارب ڈالر ہے جس میں سے ایک تہائی رقم موسمیاتی لچک اور ڈی کاربونائزیشن کے لیے مختص ہے۔
وزیر خزانہ نے زور دیا کہ اب ذمہ داری پاکستان پر ہے کہ وہ بروقت اعلیٰ معیار کے، قابل بینکاری منصوبے تیار کرے تاکہ ان فنڈز کا حصول یقینی بنایا جا سکے۔وزیرخزانہ نے گرین کلائمیٹ فنڈ اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ جیسے عالمی موسمیاتی مالیاتی فنڈز کے حوالہ سے تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ یہ فنڈز سست اور بوجھل بیوروکریسی کا شکار ہیں جن کے منظوری کے پیچیدہ مراحل کمزور ممالک کے لیے بروقت رسائی میں رکاوٹ بنتے ہیں ، اس کے برعکس پاکستان نے کثیرالجہتی ذرائع سے موثر معاونت حاصل کرنا شروع کر دی ہے جس کی مثال آئی ایم ایف کے کلائمیٹ ریزیلینس فنڈ سے 200 ملین امریکی ڈالر کی پہلی قسط کا حصول ہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ اگرچہ مقامی سطح پر مالی وسائل مختص کیے جاتے رہیں گے مگر پاکستان کے موافقتی ایجنڈے کے لیے ترقیاتی شراکت داروں اور عالمی کیپٹل مارکیٹس سے بیرونی مالیاتی معاونت ناگزیر رہے گی۔ انہوں نے ایک عملی اور مرحلہ وار حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا جس کا مقصد پہلے سے دستیاب وسائل کو بروئے کار لانا اور باقی مالیاتی خلا کو مرحلہ وار پر کرنا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری اور موسمیات سے ہم آہنگ نمو کے سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا بھر کے وزرائے خزانہ کو چاہیے کہ وہ قومی بجٹ میں موسمیاتی ترجیحات کو مرکزی دھارے میں لا کر حکومتی محکموں اور مالیاتی نظام کے درمیان ہم آہنگی پیدا کریں۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ خاص طور پر معدنیات و مائننگ،مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجیز، بلاک چین اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں۔ پاکستان کے فلیگ شپ کاپر مائننگ منصوبے ریکو ڈِک سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اسے پاکستان کی اقتصادی اور توانائی منتقلی کے مستقبل کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا۔ منصوبے کا 7 ارب امریکی ڈالر مالیت کا فنانشل کلوز بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن کی سرکردگی میں مکمل ہوا جبکہ امریکی ایگزم بینک بھی بطور اہم شراکت داراس میں شامل ہے جو ایک نمایاں سنگ میل ہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ کان کنی کے اس منصوبہ سے 2028ء میں کمرشل آپریشن کے پہلے سال میں پاکستان کی موجودہ برآمدات کے 10 فیصد کے برابر زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت ہے جس سے معاشی ترقی اور زرمبادلہ کے حصول میں مدد ملے گی، جیسے جیسے منصوبہ آگے بڑھے گا، پاکستان کو امریکا ، چین، جی سی سی ممالک اور دیگر عالمی سرمایہ کاروں سے مضبوط دلچسپی کی توقع ہے جو قومی ترقی اور عالمی سپلائی چینز، دونوں میں اہم کردار ادا کرے گی۔ بڑے ممالک کے درمیان جغرافیائی سیاسی توازن سے متعلق سوال پروزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان عالمی شراکت داریوں موثرحکمت عملی پر کاربند ہے۔
چین بالخصوص چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کی صورت میں پاکستان کا دیرینہ شراکت دار ہے، سی پیک کے پہلے مرحلہ میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیرپرتوجہ مرکوزکی گئی تھی، پاکستان نے سی پیک فیز 2.0 کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد اس بنیادی ڈھانچہ کو تجارتی بنیادوں پراستعمال میں لانا ہے تاکہ بین الحکومتی شراکت داریوں کے بعدبزنس ٹوبزنس تعاون کوموثر فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان امریکا اور چین دونوں کے ساتھ تعمیری تعلقات برقرار رکھنے کی بہترین پوزیشن میں ہے جس سے مستحکم ماحول اور متنوع بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔
سیشن کے اختتام پر موسمیاتی چیلنجز اور پائیدار ترقی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور عالمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ پینل ارکان نے کہا کہ اگرچہ ابھرتی معیشتیں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، مگر لچک، جدت اور مشترکہ مالیاتی تعاون کے جذبے کے ساتھ ممالک اپنے عوام کے تحفظ، معیشتوں کی مضبوطی اور عالمی موسمیاتی اہداف کے حصول میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔








