پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر کی بچے کو سانپ کے کاٹنے کی خبر کی وضاحت

اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر نے سانپ کاٹنے کے شکار بچے کے علاج سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔اپنے بیان ڈاکٹر عمران سکندر نے تصدیق کی کہ بچے کو 31 جولائی کی صبح 8:35 بجے پمز لایا گیا ، اسے فوری اور …

اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر نے سانپ کاٹنے کے شکار بچے کے علاج سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔اپنے بیان ڈاکٹر عمران سکندر نے تصدیق کی کہ بچے کو 31 جولائی کی صبح 8:35 بجے پمز لایا گیا ، اسے فوری اور مناسب طبی امداد دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 17 منٹ کے اندر اندر متاثرہ بچے کا معائنہ کیا گیا اور خون کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے۔

اسے فوری طور پر اینٹی وینم ویکسین کے 10 انجیکشن لگائے گئے اور اضافی دوائیاں بھی شروع کر دی گئیں۔ بچے کی حالت بگڑنے پر اس کو مزید 10 اینٹی وینم انجیکشن لگائے گئے۔انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن کے عمل کے دوران ایک سینئر فزیشن اور آئی سی یو ٹیم بھی موجود تھی۔ سانس لینے میں شدید دشواری کے باعث ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ مریض کو وینٹی لیٹر پر رکھا جائے۔ڈاکٹر عمران سکندر نے واضح کیا کہ اس وقت پمز کے تمام وینٹی لیٹرز پہلے سے مصروف تھے جس پر ہم نے پولی کلینک ہسپتال سے رابطہ کیا لیکن وہاں بھی کوئی وینٹی لیٹر دستیاب نہیں تھا۔

وینٹی لیٹر کی دستیابی کی تصدیق کے بعد بچے کو پرائیویٹ ہسپتال ریفر کر دیا گیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ علاج میں کوئی لاپرواہی نہیں ہوئی اور بچے کی جان بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے،ہم نے بچے کو مکمل علاج فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ نجی سطح پر وینٹی لیٹر کی دستیابی کو یقینی بنانے کے بعد ہی مریض کو ریفر کیا گیا۔ پمز نے حقائق کی تصدیق کے لیے بچے کا الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ بھی شیئر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس وقت اسپتال کے اسٹاک میں اینٹی وینم ویکسین کی 700 سے زائد ڈوزز دستیاب ہیں۔

ڈاکٹر عمران سکندر نے عوام پر زور دیا کہ وہ غلط معلومات پر یقین نہ کریں اور ان کو آگے نہ پھیلائیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل مواد میں صورتحال کو غلط انداز میں پیش کرتے ہوئے طبی عملے کی سرشار کوششوں کو نقصان پہنچا یا گیا ہے۔