لاہور۔1فروری (اے پی پی):پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ کی تاریخ میں اگرچہ آسٹریلیا کو مجموعی برتری حاصل رہی ہے، تاہم چند مواقع پر پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلوی ٹیم کو مکمل طور پر وائٹ واش کیا، جو کرکٹ کی تاریخ کے یادگار لمحات میں شمار ہوتے ہیں۔اکتوبر 2018میں دبئی میں کھیلی گئی تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 3-0 سے …
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ کی تاریخ میں اگرچہ آسٹریلیا کی مجموعی برتری ، پاکستان کی بھی شاندار کارکردگی رہی

مزید خبریں
لاہور۔1فروری (اے پی پی):پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ کی تاریخ میں اگرچہ آسٹریلیا کو مجموعی برتری حاصل رہی ہے، تاہم چند مواقع پر پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلوی ٹیم کو مکمل طور پر وائٹ واش کیا، جو کرکٹ کی تاریخ کے یادگار لمحات میں شمار ہوتے ہیں۔اکتوبر 2018میں دبئی میں کھیلی گئی تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 3-0 سے وائٹ واش کیا۔
اس سیریز میں بابر اعظم نے اہم نصف سنچریاں اسکور کیں جبکہ شاداب خان نے شاندار بولنگ کے ذریعے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو مسلسل دبا ئو میں رکھا اور پاکستان نے محدود اسکورز کا کامیابی سے دفاع کیا۔اسی طرح نومبر 2014میں متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 2-0سے شکست دی۔
اگرچہ یہ سیریز تین میچوں پر مشتمل نہیں تھی تاہم دونوں ٹیسٹ جیت کر پاکستان نے سیریز کا مکمل کلین سوئپ کیا، جسے عملی طور پر وائٹ واش قرار دیا گیا۔اس سے قبل 1982-83میں پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز 3-0 سے جیت کر ایک تاریخی وائٹ واش اپنے نام کیا، جو آج بھی قومی کرکٹ کی بڑی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔
دوسری جانب کرکٹ شائقین کی نظریں اب قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والی تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز پر مرکوز ہیں جہاں ہوم کنڈیشنز، ٹیم کی حالیہ کارکردگی اور شائقین کی بھرپور حمایت کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی جانب سے سیریز میں ممکنہ وائٹ واش کی توقع کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستانی ٹیم کی مضبوط بیٹنگ لائن، متوازن بولنگ اٹیک اور ہوم گرانڈ ایڈوانٹیج آسٹریلیا کے لیے بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے، اور اگر پاکستان یہ کارنامہ انجام دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ آسٹریلیا کے خلاف ایک اور یادگار وائٹ واش کے طور پر تاریخ میں درج ہو جائے گا۔
ماضی میں پاکستان نے زیادہ تر وائٹ واش فتوحات ایشیائی یا غیر جانبدار کنڈیشنز میں حاصل کی ہیں، جبکہ آسٹریلیا کی سرزمین پر کامیابیاں محدود رہی ہیں، تاہم موجودہ حالات میں ہوم گرائونڈ پر پاکستانی ٹیم کی کارکردگی شائقین کے لیے نئی امیدیں پیدا کر رہی ہے۔








