پاکستان اور ازبکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں، سردار اویس احمد خان لغاری

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں، سردار اویس احمد خان لغاری

اسلام آباد۔2ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں بالخصوص بجلی کی باہمی ترسیل، قابل تجدید توانائی، پن بجلی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔بدھ کوازبکستان کے 35ویں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں مضبوط تعاون دونوں ممالک کی وسیع تراقتصادی شراکت داری اور علاقائی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔سردار اویس احمد خان لغاری نے ازبک صدر شوکت مرزیایوف، حکومت اور عوام کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ازبکستان کے لیے مسلسل امن، استحکام، خوشحالی اور ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ازبک عوام کی کامیابیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی روابط کو اہمیت دیتا ہے جومشترکہ اسلامی ثقافت اور تہذیب پر مبنی ہیں، پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے ازبکستان کی آزادی کو تسلیم کیاجبکہ دونوں ممالک نے 1992 میں باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان مئی 2027 میں اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 35ویں سالگرہ بھی منائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی احترام، مشترکہ تاریخی و ثقافتی اقدار اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی روابط،تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے فروری 2025 میں ازبکستان کے دورے اور صدر شوکت مرزیایوف کے فروری 2026 میں پاکستان کے دورے کے بعد دوطرفہ تعلقات کو نئی رفتار ملی ، تجارت، کان کنی،انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم، زراعت، بحری امور اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی بڑھتی ہوئی وسعت اور گہرائی کے عکاس ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ تجارت میں اضافے کے لیے ایک پرعزم ہدف مقرر کیا ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کےدرمیان روابط بڑھانے، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر برائے توانائی نے کہا کہ وہ توانائی کے شعبے میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے نمایاں گنجائش دیکھتے ہیں ،دونوں ممالک توانائی کےبنیادی ڈھانچے، بجلی کی ترسیل و رابطے، قابل تجدید توانائی، پن بجلی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ مضبوط اور پائیدار توانائی کے نظام کی ترقی کے لیے مہارت اور تجربات کا تبادلہ بھی کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علاقائی رابطہ کاری پاکستان اور ازبکستان کے مشترکہ وژن کا اہم حصہ ہے، پاکستان ازبکستان کو بحیرہ عرب اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے گیٹ وے جبکہ ازبکستان پاکستان کو وسطی ایشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی منڈیوں تک رسائی کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ دونوں ممالک اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے پلیٹ فارمز پر بھی قریبی تعاون کر رہے ہیں جو امن، استحکام، مذاکرات اور علاقائی اقتصادی تعاون کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔وفاقی وزیر نےعلاقائی رابطہ کاری اورخوشحالی کے فروغ میں ازبکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ مضبوط شراکت داری کی بنیاد فراہم کرتی ہے جبکہ مشترکہ مفادات، بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط اور رابطہ کاری کے نئے مواقع دونوں ممالک کے عوام کے لیے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور خوشحالی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے دونوں ممالک کے درمیان موجود استعداد کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

انہوں نے ایک بار پھر صدر شوکت مرزیایوف، حکومت اور عوام کو ازبکستان کے 35ویں یومِ آزادی پر دلی مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ ازبکستان مسلسل ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن رہے گا اور اس کے عوام امن، استحکام، خوشی اور کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔انہوں نے دعا کی کہ پاکستان اور ازبکستان کی دوستی اور دونوں برادرممالک کے دیرینہ تعلقات آنے والی نسلوں تک اسی طرح پھلتے پھولتے رہیں۔