پاکستان اور ایران مل کر غذائی تحفظ کو یقینی بنائیں گے، وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کی ایرانی وفد سے ملاقات میں گفتگو

76

اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ اور تحقیق طارق بشیر چیمہ نےایرانی نائب وزیر زراعت عباس عسکر زادہ کی قیادت میں ایرانی وفد کا اپنے دفتر میں استقبال کیا۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ پاک ایران تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس کی بنیاد باہمی طور پر فائدہ مند زرعی تعلقات ہیں تاکہ دونوں ممالک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان بارٹر ٹریڈ جلد شروع ہو جائے گی۔

بارٹر ٹریڈ کے تحت پاکستان ایرانی سیب کے بدلے نارنجی برآمد کرے گا۔ ایرانی نائب وزیر زراعت نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان بارٹر ٹریڈ کا مستقبل بہت روشن ہے۔ بارٹر معاہدے کے تحت آنے والے دنوں میں دونوں ممالک ان مصنوعات کی فہرست کا تبادلہ کریں گے جن کی وہ مذکورہ معاہدے کے تحت تجارت کریں گے۔

وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک زراعت کے شعبے کی بہتری اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مل کر کام کریں گے۔ ایرانی نائب وزیر برائے زراعت نے وزارت قومی غذائی تحفظ اور تحقیق میں ان کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کام کرنے پر بہت خوش ہیں اور پاکستان کے ساتھ زرعی شعبے میں تعاون اور شراکت داری کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کی زرعی ضروریات کو پورا کرے گا اور ایران میں پاکستانی زرعی مصنوعات متعارف کرائے گا۔ ایرانی نائب وزیر زراعت نے کہا کہ پاکستان اور ایران پڑوسی ہیں جو اسلام کے رشتے سے جڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے وسیع امکانات موجود ہیں، بدقسمتی سے ماضی میں اس سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کو دورہ ایران کی دعوت دی اور زراعت کے شعبے میں تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے ایرانی وزیر زراعت سے ملاقات کی دعوت دی۔

وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ تجارت اور زراعت کے تعاون میں وسیع امکانات موجود ہیں جنہیں رکاوٹوں کو دور کرکے عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے۔ دونوں فریقوں نے کھاد اور یوریا کے تجارتی اختیارات پر تبادلہ خیال کیا تاکہ مقامی کھپت کو پورا کیا جا سکے۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے دونوں ممالک میں زرعی مصنوعات کی مقامی ضرورت کو پورا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔