پاکستان اور تاجکستان کے درمیان توانائی کا بڑا منصوبہ کاسا۔1000 دسمبر 2026 تک مکمل ہونے سے پاکستان کو ایک ہزارمیگاواٹ بجلی کی فراہمی شروع ہو جائے گی،جمشید شوم زادہ

اسلام آباد۔1جون (اے پی پی):تاجکستان کے پہلے نائب وزیر برائے توانائی و آبی وسائل جمشید شوم زادہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان توانائی کا بڑا منصوبہ کاسا 1000،دسمبر 2026 تک مکمل ہو جائے گا جس سے پاکستان کو ایک ہزار میگاواٹ بجلی کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے اے پی پی کو دوشنبہ (تاجکستان )میں بتایا کہ اس اہم منصوبے کو جنوری 2027 تک …

اسلام آباد۔1جون (اے پی پی):تاجکستان کے پہلے نائب وزیر برائے توانائی و آبی وسائل جمشید شوم زادہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان توانائی کا بڑا منصوبہ کاسا 1000،دسمبر 2026 تک مکمل ہو جائے گا جس سے پاکستان کو ایک ہزار میگاواٹ بجلی کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے اے پی پی کو دوشنبہ (تاجکستان )میں بتایا کہ اس اہم منصوبے کو جنوری 2027 تک فعال ہونے میں وقت لگے گاجس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ ملے گا اور دونوں ممالک میں کلین اینڈ گرین توانائی کے منصوبوں کا ایک نیا آغاز ہوگا۔

تاجکستان کے وزیر توانائی نے کہا کہ تاجکستان 2027 تک مکمل طور پر گرین انرجی اور صفر اخراج کی طرف گامزن ہو جائے گا اور اس دوران خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ گرین انرجی کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھرپور کوششیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا-جنوبی ایشیا الیکٹرسٹی ٹرانسمیشن اینڈ ٹریڈ پروجیکٹ )کاسا۔1000 (توانائی کے منصوبے کی ترسیلی صلاحیت 1,300 میگاواٹ ہو گی جو تاجکستان، پاکستان اور افغانستان کے درمیان توانائی کا ایک رابطہ ثابت ہو گا تاکہ نہ صرف علاقائی ممالک کو کلین توانائی فراہم کی جا سکے بلکہ پاکستان کے صنعتی شعبے کی ضرورت کو بھی ثابت کیا جا سکے۔نائب وزیر نے امید ظاہر کی کہ کاسا۔

1000 منصوبے مقررہ وقت پر مکمل ہوں گے اور پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون میں اضافہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور علاقائی رابطوں کو مضبوط بنا کر اس کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ جمشید شوم زادہ نے کہا کہ تاجکستان سالانہ 10 ارب کلو واٹ توانائی برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک مستفید ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ تاجکستان میں اس وقت 500 بلین کلومیٹر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جو اس وقت ہائیڈل پاور میں علاقائی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ تاجکستان کے پاس دو سب سے بڑے ڈیم ہیں جن میں نوریک ڈیم اور روگن ڈیم شامل ہیں اور دونوں کی 6,600 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔نوریک ڈیم دنیا کا دوسرا بلند ترین ڈیم ہے جس کی اونچائی 300 میٹر (984 فٹ) ہے اور پیداواری صلاحیت 3000 میگاواٹ ہے۔

نوریک ڈیم سے بننے والا ذخائر بھی تاجکستان کا سب سے بڑا ہے جس کی گنجائش 10.5 کیوبک کلومیٹر ہے اور یہ ڈیم اس وقت زیر تعمیر ہے اور مکمل ہونے پر دنیا کا سب سے اونچا ڈیم ہو جائے گا اور اونچائی میں نوریک ڈیم کو پیچھے چھوڑ دے گا۔انہوں نے کہا کہ روگن ڈیم زیر تعمیر ہے اور یہ دنیا کا بلند ترین ڈیم ہوگا جس کی اونچائی 335 میٹر (1,099 فٹ) ہوگی اور دریائے وخش پر زمین سے بھرے اس ڈیم کی پیداواری صلاحیت 3600 میگا واٹ ہے۔روگن ڈیم سے تاجکستان کی توانائی کی پیداوار دوگنا ہونے کی توقع ہے اور یہ ملک کی توانائی کی خودمختاری کے لیے انتہائی اہم ہے۔

نائب وزیر برائے توانائی و آبی وسائل جمشید شوم زادہ نے کہا کہ تاجکستان پہلے ہی افغانستان سمیت دیگر علاقائی ممالک کو بجلی فراہم کر رہا ہے اور مستقبل میں تاجکستان ایک علاقائی توانائی کا مرکز بنائے گا جس سے خطے میں پائیدار توانائی کی پیداوار اور اقتصادی خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔کاسا۔1000، 1.2 بلین ڈالر کا علاقائی پاور پراجیکٹ ہے جو چار ممالک تاجکستان، پاکستان، کرغزستان اور افغانستان کو باہمی رابطے کے فوائد پہنچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔