پاکستان اور روس میں تجارت، توانائی، تعلیم و سرمایہ کاری میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، تعلقات کو کثیر الجہتی شراکت داری میں تبدیل ہونا چاہیے، وفاقی وزیر اویس احمد خان

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس میں تجارت توانائی تعلیم و سرمایہ کاری میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو تجارت توانائی سرمایہ کاری پر مشتمل کثیر الجہتی شراکت داری میں تبدیل ہونا چاہیے

اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس میں تجارت توانائی تعلیم و سرمایہ کاری میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو تجارت توانائی سرمایہ کاری پر مشتمل کثیر الجہتی شراکت داری میں تبدیل ہونا چاہیے، پاکستان اور روس کے درمیان بارٹر ٹریڈ کا فریم ورک تجارتی تعاون میں اہم پیشرفت ہے ، تجارتی راہداریوں لاجسٹکس اور مضبوط سپلائی چینز سے علاقائی تجارت کو نئی جہت مل سکتی ہے، پاکستان اور روس کے مابین تعلقات کا بنیادی ستون توانائی ہے، پاک روس تعلقات باہمی احترام مشترکہ مفادات اور درینہ تعاون پر استوار ہیں۔ وہ جمعرات کو یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز ماسکو (یو ڈبلیو سی ایم) اور انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) اسلام آباد کے زیر اہتمام پاکستان-روس تجارت، تعلیم اور توانائی میں تعاون کے فروغ کے عنوان سے منعقدہ ویبینار سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان اور روس کے تعلقات باہمی اعتماد،احترام اور علاقائی استحکام کے مشترکہ عزم کی بنیاد پر مثبت انداز میں آگے بڑھے ہیں، پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، توانائی، تعلیم اور رابطہ کاری کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، مضبوط اقتصادی تعاون اور بہتر ٹرانسپورٹ روابط کےذریعے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت آئندہ برسوں بلین ڈالر سے تجاوز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب جغرافیائی سیاسی عوامل سے بالاتر ہو چکے ہیں اور پاکستان و روس اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون کو امن،سلامتی اور تعاون کے فروغ کے لیے انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ یوریشیائی رابطہ کاری اقتصادی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نےوسطی ایشیا کے ذریعے تاریخی زمینی راستوں اور انٹرنیشنل نارتھ-سائوتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور کی بحالی کو پاکستان اور روس کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025 کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 243.412 ملین ڈالر رہا جو اس کی حقیقی صلاحیت سے کہیں کم ہے، مالی سال 2024 میں تجارت ایک بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی تاہم بعد ازاں ادائیگی کے نظام، بینکاری ذرائع، مالیاتی انتظامات اور شپنگ لاجسٹکس سے متعلق چیلنجوں کی وجہ سے اس میں کمی آئی۔

وفاقی وزیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان 2030ء تک اقتصادی تعاون کا پروگرام دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور کاروباری مواقع میں اضافے کا ذریعہ بنے گا۔ علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بیلاروس، روس، قازقستان،ازبکستان، افغانستان-پاکستان ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کوریڈور سے متعلق مفاہمتی یادداشت اور جون 2024ء میں روس کے ساتھ ریلوے تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ انہوں نے کہا کہ ریل لنک کے قیام سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور کوئٹہ-تفتان ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن کی راہ بھی ہموار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں موجود نہیں تاہم دونوں ممالک جلد ان کی بحالی کےامکانات پر غور کر رہے ہیں، ہماری فضائی کمپنیاں بالخصوص کارگو پروازوں کے لیے کوڈ شیئرنگ اور ٹرانزٹ روٹس کے انتظامات کا جائزہ لے سکتی ہیں۔ توانائی کے شعبے میں تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ توانائی پیدا کرنےوالے بڑے عالمی ملک کی حیثیت سے روس پاکستان کے لیے تعاون کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ روسی توانائی کمپنی زاروبزنیفٹ نے فروری 2025ء میں پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیےجبکہ اگست 2025ء سے پاکستان میں اس کی آپریشنل موجودگی تیل اور گیس کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے گیس کے شعبے، ایل این جی کی فراہمی اور مربوط گیس منصوبوں میں پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے لیے نوواٹیک کی دلچسپی کا بھی خیرمقدم کیاجبکہ روس ہائیڈرو گروپ کی جانب سے پاکستان انجینئرنگ شراکت دار بننے کی دلچسپی کو بھی مثبت قرار دیا۔سردار اویس احمد خان لغاری نےپاکستان سٹیل ملز کی بحالی کو پاکستان اور روس کی تاریخی شراکت داری کا ایک نمایاں منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کامیاب تکمیل دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور اقتصادی تعاون کی علامت ہوگی۔ تعلیمی تعاون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً ایک ہزار 87 پاکستانی طلبہ روس کی جامعات اور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے پاکستانی طلبہ کےلیے روسی سکالرشپ پروگراموں کو سراہتے ہوئے خصوصاً سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید تعلیمی مواقع بڑھانے پر زور دیا۔

وفاقی وزیر نے پاکستان اور روس کے درمیان ری ایڈمیشن معاہدے پردستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عوامی روابط کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کاروباری شخصیات، طلبہ اورسیاحوں کے لیے ویزا نظام کو مزید سہل بنانے پر بھی زور دیا۔ سردار اویس احمد خان لغاری نےکہا کہ ویبینار سے پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، توانائی، تعلیم اور رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے بڑھتے ہوئے امکانات کی توثیق ہوئی ہے اور انہیں یقین ہے کہ مسلسل رابطے اور مکالمے سے یہ تعاون عملی نتائج کی صورت میں سامنے آئے گا۔

 

مزید خبریں