اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے مالدیپ کی پیپلز مجلس کے اسپیکر عبدالرئیم عبداللہ نے پارلیمانی وفد کے ہمراہ اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور مالدیپ کے دیرینہ دوستانہ تعلقات، پارلیمانی سفارت کاری، دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع، سیاحت، موسمیاتی تبدیلی، عوامی روابط اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق …
پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں، سیدال خان ناصر

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے مالدیپ کی پیپلز مجلس کے اسپیکر عبدالرئیم عبداللہ نے پارلیمانی وفد کے ہمراہ اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور مالدیپ کے دیرینہ دوستانہ تعلقات، پارلیمانی سفارت کاری، دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع، سیاحت، موسمیاتی تبدیلی، عوامی روابط اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے مالدیپ کی پیپلز مجلس کے اسپیکر اور معزز پارلیمانی وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات باہمی احترام، اعتماد، مشترکہ مفادات، اسلامی اخوت اور دیرینہ دوستانہ روابط پر استوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ سارک، او آئی سی اور اقوام متحدہ کے مختلف فورمز پر بھی مالدیپ کے ساتھ تعاون کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔سیدال خان ناصر نے کہا کہ پارلیمانی سفارت کاری دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاہمت، ادارہ جاتی تعاون اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان وفود کے تبادلوں، تجربات کے اشتراک اور پارلیمانی روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ براہِ راست فضائی اور بحری روابط، بہتر مارکیٹ رسائی اور نجی شعبے کی فعال شمولیت سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیکسٹائل، چاول، سیمنٹ، گوشت، سبزیوں، پھلوں، ادویہ سازی اور دیگر مصنوعات کے شعبوں میں مالدیپ کے ساتھ تجارتی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے مالدیپ کے طلبہ کے لیے پاکستانی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے مزید مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ طب، انجینئرنگ، فارمیسی، دندان سازی اور دیگر شعبوں میں پاکستانی تعلیمی ادارے مالدیپ کے طلبہ کو معیاری تعلیم اور تربیت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سیدال خان ناصر نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ دونوں موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان موسمیاتی تحقیق، تجربات کے تبادلے، استعدادِ کار میں اضافے اور مشترکہ اقدامات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے دفاعی تربیت، بحری سلامتی اور استعدادِ کار میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ مالے میں مالدیپ کی پارلیمنٹ کی عمارت پاکستان اور مالدیپ کی دیرینہ دوستی، اخوت اور ترقیاتی تعاون کی ایک نمایاں علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مالدیپ کی پارلیمنٹ کی عمارت کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں تعاون دونوں ممالک کے مضبوط اور دیرینہ تعلقات کا مظہر ہے۔مالدیپ کی پیپلز مجلس کے اسپیکر عبدالرئیم عبداللہ نے قائم مقام چیئرمین سینیٹ کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مالدیپ پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات مزید گہرے اور مستحکم ہوئے ہیں اور مالدیپ پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع اور سفارتی روابط کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
مالدیپی اسپیکر نے پاکستان کے عالمی سطح پر مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مالدیپ کو پاکستان پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مشکل وقت میں مالدیپ کا ساتھ دیا اور مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کی۔ انہوں نے مالدیپ کی پارلیمنٹ کی عمارت سمیت پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت، امداد اور ترقیاتی پروگراموں پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مالدیپ ان اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے باہمی تعاون کے موجودہ شعبوں کو مزید مستحکم کرنے اور نئے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات میں اراکین قومی اسمبلی، اراکین سینیٹ، مالدیپ کے پارلیمانی وفد اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔







