صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ ناجائز طالبان رجیم اگر یہ سمجھتی ہے کہ سرحد پار سے بھیجے گئے مٹھی بھر اڑنے والے کھلونوں سے پاکستان کو خوفزدہ کیا جا سکتا ہے تو وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہے۔ جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نہ دباؤ میں لایا جا سکتا ہے، نہ …
پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی طالبان رجیم کی ناکامیوں میں مزید اضافہ کرے گی،ترجمان صدر مملکت

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ ناجائز طالبان رجیم اگر یہ سمجھتی ہے کہ سرحد پار سے بھیجے گئے مٹھی بھر اڑنے والے کھلونوں سے پاکستان کو خوفزدہ کیا جا سکتا ہے تو وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہے۔ جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نہ دباؤ میں لایا جا سکتا ہے، نہ اس کی توجہ ہٹائی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے مرعوب کیا جا سکتا ہے، اور کابل کو اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ اس کی اشتعال انگیزیاں بغیر کسی نتائج کے گزر جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مصنوعی محاذ آرائی پاکستان کو علاقائی اور عالمی امن کے لیے اپنی سفارتی کوششوں سے نہیں ہٹا سکتی،نہ ہی بیرونی مہم جوئی طالبان حکومت کے ٹوٹے ہوئے وعدوں، اندرونی جبر اور ذمہ دارانہ طرز حکمرانی میں ناکامی کے ریکارڈ کو چھپا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان رجیم نے افغانستان کی نصف آبادی کو اپنے گھروں تک محدود کر رکھا ہے، خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، روزگار اور بنیادی آزادیوں سے محروم کر رکھا ہے، وہ مذہبی اور نسلی اقلیتوں پر جبر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ پاکستان کے خلاف مصنوعی مذہبی اور نام نہاد قوم پرستانہ اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، یہ اس کی داخلی ناکامیوں اور دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں سے توجہ ہٹانے کی ایک واضح کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان رجیم کو ایک بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہیئے کہ پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی اسے اپنی ناکامیوں سے نجات نہیں دلائے گی بلکہ ان میں مزید اضافہ کرے گی، ہر مہم جوئی اسے مزید تنہا کرے گی، اس کی غیر ذمہ داری کو بے نقاب کرے گی۔انہوں نے کہا کہ طالبان رجیم میں یہ امر بتدریج واضح ہو رہا ہے کہ وہ نہ صرف افغان عوام کے لیے خطرہ ہے بلکہ اپنے ہمسایہ ممالک اور عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی عدم استحکام کا بڑھتا ہوا سبب ہے۔
طالبان کی پہلی حکومت اپنے انتہاپسندانہ طرز عمل اور تنہائی کے بوجھ تلے ختم ہو گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت بھی اسی راستے پر چلتی رہی اور اپنے ریکارڈ میں سرحد پار مہم جوئی کا اضافہ کرتی رہی تو اسے اس سے بھی زیادہ تباہ کن سیاسی انجام کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔








