وزیرمملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہاہے کہ اسلام آباد میں امن و امان اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ماضی میں اسلام آباد پر ہونے والے پرتشدد واقعات کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات اور کنٹینرز کی تنصیب کسی خدشے کے بجائے سابقہ واقعات کے تجربے کی بنیاد پر کئے جا رہے ہیں، تشدد پر اصرار اور کسی …
امن و امان اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ، بلال اظہرکیانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):وزیرمملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہرکیانی نے کہاہے کہ اسلام آباد میں امن و امان اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ماضی میں اسلام آباد پر ہونے والے پرتشدد واقعات کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات اور کنٹینرز کی تنصیب کسی خدشے کے بجائے سابقہ واقعات کے تجربے کی بنیاد پر کئے جا رہے ہیں، تشدد پر اصرار اور کسی مجرم کی رہائی کو مقصد بنا کر ریاستی نظام کو دبائو میں لانے کی کوشش کی جائے تو ایک مرحلے کے بعد مذاکرات کا عمل آگے بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔
جمعہ کویہاں وفاقی وزیرشزہ فاطمہ خواجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہاکہ یہ بدقسمتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کی تیاریوں پر توجہ دی جا رہی ہے، کاش یہی محنت اور توانائی صوبے میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں کے ساتھ کھڑے ہونے، پولیس کو بہتر وسائل اور تحفظ فراہم کرنے، فرانزک لیبارٹریز کے قیام اور پولیس و سکیورٹی اہلکاروں کا مورال بلند کرنے پر صرف کی جاتی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے جوانوں کے جنازوں میں شرکت اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔
وزیرمملکت نے کہاکہ کسی بھی حکومت کو پسند نہیں ہوتا کہ کنٹینرز نصب کئے جائیں یا شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو تاہم جب عوامی اور نجی املاک کے تحفظ اور شہریوں کو ممکنہ تشدد سے محفوظ رکھنے کا معاملہ ہو تو ایسے اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں، ریاست کی اولین ترجیح عوام کا تحفظ، پبلک و پرائیویٹ پراپرٹی کا تحفظ اور ایسے عناصر کو روکنا ہے جن کے بارے میں ماضی میں پرتشدد واقعات کا ریکارڈ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ماضی میں ڈی چوک پر قبریں کھودنے، پی ٹی وی کمپلیکس پر حملے، رینجرز اہلکاروں پر حملوں، شہداء کی علامتوں کو نقصان پہنچانے اور ملٹری تنصیبات پر حملوں جیسے واقعات ہو چکے ہیں۔ ایسے واقعات کی موجودگی میں ریاست اس امر کی اجازت نہیں دے سکتی کہ کوئی گروہ سیاسی سرگرمی کی آڑ میں شہریوں کی زندگیوں،سرکای ونجی املاک اور ریاستی اداروں کو خطرے میں ڈالے۔
وزیرمملکت نے کہاکہ کسی ایک شخص کی رہائی کے لیے پورے نظام اور اسلام آباد کو یرغمال بنانے کی کوشش قابل قبول نہیں ہو سکتی،حکومت کی خواہش ہے کہ معمولات زندگی متاثر نہ ہوں تاہم عوام کے تحفظ کے لیے جہاں ضروری ہوگا، حکومت اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ امید ہے آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں معمول کی صورتحال بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ شہر مکمل طور پر بند ہے اور کہا کہ وہ گزشتہ دو تین روز کے دوران سیالکوٹ، گجرات، جہلم، دینہ اور سوہاوہ سے ہوتے ہوئے اسلام آباد پہنچے ہیں اور شہر میں معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں۔بلال اظہرکیانی نے کہاکہ سیاسی عدم استحکام کی کوششوں کے باوجود پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام کا سفر جاری رکھا ہے اور اب حکومت اس استحکام کو پائیدار معاشی نمو میں تبدیل کرنا چاہتی ہے تاکہ روزگار، برآمدات اور زرعی شعبے سمیت معیشت کے مختلف شعبوں میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ مذاکرات اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب دونوں جانب سنجیدگی موجود ہو، حکومت نے ماضی میں مذاکرات کے لیے متعدد بار ہاتھ بڑھایا، وزیراعظم نے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کی دعوت بھی دی اور خود آگے بڑھ کر ملاقاتیں بھی کیں تاہم اپوزیشن نے اس پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی کا خاتمہ، ملکی معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع ترجیحات میں شامل ہوں تو صوبائی حکومتوں کو اپنے عوام کے لیے ان شعبوں میں عملی اقدامات کرتے ہوئے نظر آنا چاہیے جب کسی جانب سے مذاکرات کے بجائے تشدد پر اصرار ہو اور کسی مجرم کی رہائی کو مقصد بنا کر ریاستی نظام کو دبائو میں لانے کی کوشش کی جائے تو ایک مرحلے کے بعد مذاکرات کا عمل آگے بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایسی صورتحال میں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں، ملکی معیشت اور پبلک و پرائیویٹ املاک کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں معمولات زندگی مکمل طور پر بحال ہو جائیں گے۔







