پاکستان اور مالدیپ کے درمیان پارلیمانی روابط، براہ راست فضائی رابطوں اور تجارت کے فروغ پر اتفاق
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان پارلیمانی روابط، براہ راست فضائی رابطوں اور تجارت کے فروغ پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں پاکستان اور مالدیپ کے پارلیمانی فرینڈشپ گروپ (پی ایف جی) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں جمہوریہ مالدیپ کے دورہ کرنے والے پارلیمانی وفد کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوئوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت کنوینر پی ایف جی شائستہ خان (ایم این اے) نے کانسٹیٹیوشن روم میں کی۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار، سبین غوری، آسیہ ناز تنولی، ماہ جبین خان عباسی، اسفندیار ایم بھنڈارا اور سنجے پروانی نے شرکت کی۔
مذاکرات کا محور دونوں برادر ممالک کے مابین پارلیمانی اشتراک عمل، معاشی روابط، فضائی رابطے (کنیکٹیویٹی)، سیاحت اور عوامی روابط (پیپل ٹو پیپل کانٹیکٹس) کو مزید مستحکم بنانا تھا۔مالدیپ کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کنوینر شائستہ خان نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور تاریخی اخوت پر مبنی ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل پارلیمانی روابط کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قانون سازی اور پارلیمانی تجربات سے استفادہ کر سکیں۔
انہوں نے پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کو باقاعدہ ادارہ جاتی رابطے کا موثر فورم قرار دیتے ہوئے دونوں پارلیمانوں کے مابین باہمی دوروں اور ورچوئل رابطوں میں تسلسل لانے کی خواہش کا اظہار کیا۔مالدیپ کے پارلیمانی وفد نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور پاکستانی اراکین کی شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ دیرینہ دوستانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ مالدیپی وفد نے طبی خدمات، خوراک، تعمیرات، سیاحت اور ماہی گیری (فشنگ) کے شعبوں میں پاکستان کی جغرافیائی قربت اور تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔دونوں جانب سے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہ راست فضائی پروازیں شروع کرنے کی فوری ضرورت پر خصوصی زور دیا گیا تاکہ سیاحت، تجارت، کاروباری و طبی سفر اور عوام سے عوام کے رابطوں میں آسانی پیدا ہو سکے۔
مالدیپ کے وفد نے صدر مالدیپ کے آئندہ متوقع دورہ پاکستان کو دوطرفہ تعلقات میں سنگ میل قرار دیا۔پاکستانی اراکین پارلیمنٹ نے تجارت، سرمایہ کاری، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ہنر مندی کے فروغ اور زراعت میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات اجاگر کیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے ماہر ہیلتھ کیئر ورکرز، زرعی پیداوار اور آئی ٹی افرادی قوت کے ذریعے مالدیپ کی ترجیحی ضروریات کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ فریقین نے اعلیٰ سطحی پارلیمانی سفارت کاری اور عوامی روابط کو نتیجہ خیز شراکت داری میں بدلنے کے عزم کا اظہار کیا۔








