پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسائو سکورسکی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پولینڈ کے ہم منصب کے دورہ پاکستان کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، دونوں ملکوں نے تجارت، توانائی، بنیادی ڈھانچے، دفاع، انسداد دہشت گردی، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے …

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پولینڈ کے ہم منصب کے دورہ پاکستان کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، دونوں ملکوں نے تجارت، توانائی، بنیادی ڈھانچے، دفاع، انسداد دہشت گردی، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، پاکستان پولینڈ کو دو طرفہ اور یورپی یونین میں اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے، دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے اور کثیر الجہتی فورمز پر تعاون جاری رکھیں گے، دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے دوران فریقین نے دو طرفہ تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

جمعرات کو یہاں دفتر خارجہ میں پولینڈ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ رادوسائو سکورسکی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفود کی سطح پر بات چیت کے دوران پولینڈ کے ہم منصب سکورسکی اور میں نے پاکستان اور پولینڈ کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا جو بہت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ہماری ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی دوطرفہ تجارت ہے اور دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پولینڈ نے تجارت، توانائی، بنیادی ڈھانچے، دفاع، انسداد دہشت گردی، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

نائب وزیراعظم نے دیرینہ حل طلب تنازعہ جموں و کشمیر اور مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ نائب وزیراعظم کہا کہ دونوں ممالک کی وزارت خارجہ نے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد فریقین کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اور پولینڈ کے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے درمیان تعاون کے لئے ایم او یو پر دستخط کیے گئے ہیں۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے پولینڈ کے ہم منصب کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہے، اس سے قبل انہوں نے 2011ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پولینڈ کے نائب وزیر اعظم دنیا کے اس حصے میں کوئی اجنبی نہیں، انہوں نے 1980ء کی دہائی میں خطے میں جنگی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیں۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پولینڈ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے پولینڈ کی آزادی کے لیے جدوجہد کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور پولینڈ کا منفرد تاریخی تعلق ہے، دوسری جنگ عظیم کے دوران پولینڈ کے ہزاروں مہاجرین نے موجودہ پاکستان یعنی کراچی اور کوئٹہ میں پناہ حاصل کی۔ انہوں نے پاک فضائیہ کی بنیاد رکھنے میں پولینڈ کے پائلٹس اور انجینئرز کے کردار کو یاد کرتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس مشترکہ تاریخی تناظر کے ساتھ پاکستان پولینڈ کو دو طرفہ اور یورپی یونین میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ پولینڈ نے اب ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے اقتصادی پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے اور کثیر الجہتی فورمز پر تعاون جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے دوران فریقین نے اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جن میں جنوبی ایشیا، افغانستان، یورپ اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال بھی شامل ہے۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے پولش وزیر خارجہ کو بلا اشتعال بھارتی جارحیت اور تنازعہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے طالبان حکومت کی حالیہ جارحیت پر بھی تبادلہ خیال کیا، افغان سرزمین پر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے عناصر کی موجودگی اور پاکستان کے خلاف ان کے مسلسل حملے ہمارے اولین تحفظات ہیں۔

سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نےموجودہ اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی چیلنجوں سے موثر اور قابل اعتبار انداز میں نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی کو مضبوط بنانے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی مستقل پابندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولینڈ کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے، آج ہم ان تعلقات کو ایک جامع اور باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری میں تبدیل کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ پولینڈ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ رادوسائو سکورسکی نے اس موقع پر نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈارکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تاریخی میراث کی یاد دلائی ہے۔ رادوسائو سکورسکی نے کہا کہ ہم نے دو طرفہ اقتصادی تعلقات سے لے کر علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈارکے ساتھ بات چیت میں تجارت، عوامی مالیات، فن ٹیک اور پانی کے انتظام کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی پیشکش کی ہے، ہم نے کان کنی اور توانائی کے شعبے میں مزید تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ پولینڈ کے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پولینڈ میں پاکستانی تارکین وطن گزشتہ چند سالوں سے بڑھ رہے ہیں، پولینڈ میں تقریباً دو ہزار پاکستانی ہیں، ان میں سے ایک چوتھائی طلباءہیں، پولینڈ کی یونیورسٹیاں پاکستان کے نوجوانوں اور باصلاحیت لوگوں میں مقبول ہیں، توقع کرتے ہیں کہ ان کا تجربہ عوام سے عوام کے درمیان حقیقی سفارت کاری کی بنیاد کے طور پر کام کرے گا، پولینڈ قانونی ہجرت اور حقیقی طلباء کے لیے تعلیم کے لیے کھلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولینڈ اور پاکستان ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے بارے میں مشترکہ نقطہ نظر رکھتے ہیں، یہ اصول یوکرین پر روسی حملے کی روشنی میں ہمارے خطے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولینڈ یوکرین میں جامع، منصفانہ اور دیرپا امن کی حمایت میں ثابت قدم ہے اور وہ امن کے حصول کے لیے تمام کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے تاہم یہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون پر مبنی ہونا چاہیے۔

غزہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پولینڈ نے کئی دہائیوں سے فلسطین کو تسلیم کیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے دو قدیم لوگوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ وقار اور امن کے ساتھ رہنے کے لیے دو ریاستی حل ہونا چاہیے۔ پولینڈ کے نائب وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پولینڈ مستحکم اور خوشحال جنوبی ایشیا میں دلچسپی رکھتا ہے اور ہم علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کی ان تمام کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں جو اس مقصد کو حاصل کرنے میں معاون ہیں۔