پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل شعبے میں اب تک 850 ملین امریکی ڈالر مالیت کے معاہدے طے پا چکے ہیں، جو ملکی معیشت اور صحت کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہیں،وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل شعبے میں اب تک 850 ملین امریکی ڈالر مالیت کے معاہدے طے پا چکے ہیں، جو ملکی معیشت اور صحت کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہیں

اسلام آباد۔18جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل شعبے میں اب تک 850 ملین امریکی ڈالر مالیت کے معاہدے طے پا چکے ہیں، جو ملکی معیشت اور صحت کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہیں۔ چائنہ بی ٹو بی فارماسیوٹیکل انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوسرے روز نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ کانفرنس کے دوران 16 معاہدوں اور 80 مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے ہیں، جن میں 600 ملین ڈالر کے باقاعدہ معاہدے اور 250 ملین ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشتیں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں میں 18 ہربل میڈیسنز سے متعلق منصوبے بھی شامل ہیں۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان فارما سیکٹر میں بزنس ٹو بزنس تعاون نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور حکومت چینی کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ویکسین کی مقامی پیداوار شروع کرنے کے لیے بھی چینی کمپنیوں کے ساتھ اہم معاہدے کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت 13 اقسام کی ویکسینز درآمد کرتا ہے، جبکہ اگر مقامی پیداوار شروع نہ کی گئی تو 2030 تک ویکسین کی درآمدی لاگت 1.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک کو ویکسین کی درآمد پر انحصار سے نکالنا ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستان کی پہلی قومی ویکسین پالیسی تیار کرکے وفاقی کابینہ سے منظور کرائی جا چکی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنی 90 فیصد ادویات کا خام مال درآمد کرتا ہے، تاہم اب چینی کمپنیوں کے تعاون سے خام مال کی مقامی پیداوار کے لیے معاہدے کیے گئے ہیں، جس سے ادویات کی پیداواری لاگت اور قیمتوں میں کمی آئے گی اور اس کا براہِ راست فائدہ عوام کو پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیکل ڈیوائسز کی مقامی تیاری، کلینیکل ٹرائلز اور ووکیشنل ٹریننگ کے شعبوں میں بھی اہم معاہدے کیے گئے ہیں، جو ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مہارتوں کے فروغ اور صنعتی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی 80 فیصد سے زائد خدمات ڈیجیٹلائز کی جا چکی ہیں۔ اب ادویات کے لائسنس کے لیے گھر بیٹھے آن لائن درخواست دی جا سکتی ہے اور ڈریپ پورٹل پر رجسٹریشن کے 20 دن کے اندر لائسنس ای میل کے ذریعے جاری کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فارما ریگولیشن کے شعبے میں عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) پاکستانی لیبارٹریز کو پری کوالیفائی کر چکا ہے، جبکہ پاکستان WHO لیول ٹو کے تحت 52 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپریل 2027 میں ڈبلیو ایچ اولیول تھری کی انسپیکشن متوقع ہے، جس کے حصول کے بعد مزید 100 ممالک کو ادویات برآمد کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ کانفرنس کے دوران ہونے والے معاہدے پاکستان کی کاروباری صلاحیت، سرمایہ کار دوست ماحول اور فارما انڈسٹری کی استعداد کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں کی بڑی تعداد میں شرکت اس امر کی غماز ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستان کے فارما سیکٹر پر اعتماد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فارما انڈسٹری میں سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جدید ٹیکنالوجی پاکستان منتقل ہوگی اور فارما مصنوعات کی برآمدات میں اضافے سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان فارما سیکٹر میں تعاون ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں سرمایہ کاری پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا اور تمام متعلقہ شعبے نئی سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کو عوامی فلاح اور قومی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے