پاکستان اور یورپی انویسٹمنٹ بینک نے سندھ فلڈ ایمرجنسی ہائوسنگ ری کنسٹرکشن منصوبے کیلئے 100 ملین یورو کے مالیاتی معاہدے پر دستخط کر دیئے
پاکستان اور یورپی انویسٹمنٹ بینک نے سندھ فلڈ ایمرجنسی ہائوسنگ ری کنسٹرکشن منصوبے کیلئے 100 ملین یورو کے مالیاتی معاہدے پر دستخط کر دیئے

مزید خبریں
اسلام آباد۔29اپریل (اے پی پی):ِ پاکستان اور یورپی انویسٹمنٹ بینک (ای آئی بی) نے ماحولیاتی مزاحمت اور پائیدار بحالی کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے سندھ فلڈ ایمرجنسی ہائوسنگ ری کنسٹرکشن منصوبے کیلئے 100 ملین یورو کے مالیاتی معاہدے پر دستخط کر دیئے، منصوبے کا مقصد 2022ء کے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور متاثرہ کمیونٹیز کی تعمیر نو ہے۔ تاریخی معاہدہ پروزارت اقتصادی امور کے وفاقی سیکرٹری محمد حمیر کریم اور یورپی انویسٹمنٹ بینک کے سینئر عہدیدار نے یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم کے موقع پر دستخط کئے۔
اس موقع پر پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس، وزارت اقتصادی امور کے ایڈیشنل سیکرٹری سعید اشرف صدیقی اور وزارت اقتصادی امور اور یورپی یونین کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
سندھ فلڈ ایمرجنسی ہائوسنگ ری کنسٹرکشن منصوبہ دنیا کے بڑے تعمیر نو کے پروگراموں میں شمار ہوتا ہے جس کے تحت سندھ کے دیہی علاقوں میں 2022ء کے سیلاب سے شدید متاثر ہونے والے تقریباً 17 لاکھ گھروں کی تعمیر نو کی جا رہی ہے،اس منصوبے میں حکومت سندھ کے ساتھ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک سمیت اہم ترقیاتی شراکت دار مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں،منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 1.9 ارب یورو ہے جبکہ یورپی انویسٹمنٹ بینک کی جانب سے فراہم کردہ 100 ملین یورو کی مالی معاونت سے 1 لاکھ 16 ہزار 580 رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔
اس پروگرام سے سندھ کے دیہی علاقوں کے تقریباً 40 فیصد گھرانے مستفید ہوں گے۔وزارت اقتصادی امورکے مطابق اس اقدام سے عالمی سطح پر مشترکہ تعاون اورمتاثرہ آبادیوں کی بہتر بحالی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی آفات کے مقابلے کیلئے دیرپا مزاحمت پیدا کرنے کے عزم کی عکاسی ہورہی ہے۔








