پاکستان ایک بار پھر ایراسمس منڈس سکالرشپس میں سرفہرست، 114 طلباء کو سکالرشپ مل گئی

اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):پاکستان نے ایک بار پھر یورپی یونین کے فنڈ سے چلنے والے ایراسمس سکالرشپ پروگرام میں سب سے زیادہ سکالرشپس حاصل کر کے عالمی سطح پر سبقت حاصل کر لی ۔رواں سال 2025 میں 114پاکستانی طلبہ اس سکالرشپ کے اہل قرار پائے، ان میں 66طالبات شامل ہیں۔ پاکستانی طلباء مسلسل چوتھے سال بھی سب سے زیادہ سکالرشپس لینے والے طلبا ءبن گئے۔تفصیلات کے مطابق یورپی یونین …

اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):پاکستان نے ایک بار پھر یورپی یونین کے فنڈ سے چلنے والے ایراسمس سکالرشپ پروگرام میں سب سے زیادہ سکالرشپس حاصل کر کے عالمی سطح پر سبقت حاصل کر لی ۔رواں سال 2025 میں 114پاکستانی طلبہ اس سکالرشپ کے اہل قرار پائے، ان میں 66طالبات شامل ہیں۔ پاکستانی طلباء مسلسل چوتھے سال بھی سب سے زیادہ سکالرشپس لینے والے طلبا ءبن گئے۔تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کے ایراسمس منڈس سکالرشپس کے تحت دنیا بھر کے137 ممالک کے 2,176 طلبہ کا انتخاب کیا گیا جن میں پاکستان پہلے نمبر پر رہا۔ اس کامیابی کی خاص بات صنفی نمائندگی بھی ہے۔ منتخب ہونے والے پاکستانی طلبہ میں 66 خواتین شامل ہیں جو مجموعی تعداد کا تقریباً 58 فیصد ہیں جو اعلیٰ تعلیم میں صنفی برابری کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔

پاکستان کے بعد بھارت رہا جسے 96سکالرشپس ملے، بنگلہ دیش کو95، میکسیکو 93، نائیجیریا 75 اور برازیل73سکالرشپس کے ساتھ نمایاں رہے۔ یہ سکالرشپ پروگرام طلبہ کو یورپ کی مختلف جامعات میں مشترکہ ماسٹرز ڈگریاں حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سکالرشپ ٹیوشن فیس، سفر، ویزا، رہائش اور دیگر اخراجات مکمل طور پر کور کرتی ہے اور طلبہ کو کم از کم تین ممالک میں تعلیم و تحقیق، انٹرن شپ اور مقالہ نویسی جیسے تعلیمی تجربات حاصل ہوتے ہیں۔واضح رہے گزشتہ سال 2024 میں پاکستان سے 189 طلبہ کو اسکالرشپ ملی تھی جن میں 100 مرد، 88 خواتین شامل تھے۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ہائرایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ویب سائٹ کے ذریعے معلومات حاصل کرتے رہنا چاہئے، یہ ایک اچھا موقع ہے جس سے پاکستانی نوجوانوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکالرشپس کے لئے اپلائی کرنے کا مکمل میرٹ بیسڈ طریقہ کار ہے جبکہ ایچ ای سی کی جانب سے طلباء کو مکمل معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

مزید خبریں