پاکستان تحریک انصاف کے دو سالہ دور حکومت میں ملک کو مختلف مسائل و اقتصادی کساد بازاری سے نکالنے،قرضوں کی واپسی ،توانائی کی پیداوار میں اضافے اور گھروں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے متعدد اقدامات

اسلام آباد ۔ 6 اگست (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دو سالہ دور حکومت میں ملک کو مختلف مسائل اقتصادی کساد بازاری سے نکالنے،قرضوں کی واپسی ،جاری خسارے کو کم کرنے،منی لانڈرنگ کے خاتمے،توانائی کی پیداوار میں اضافے اور گھروں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے سخت محنت سے کام کیا ہے اور زراعت، مینوفیکچرنگ، خدمات، آبی منصوبوں، غریبوں کے لئے گھروں کی تعمیر احساس …

اسلام آباد ۔ 6 اگست (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دو سالہ دور حکومت میں ملک کو مختلف مسائل اقتصادی کساد بازاری سے نکالنے،قرضوں کی واپسی ،جاری خسارے کو کم کرنے،منی لانڈرنگ کے خاتمے،توانائی کی پیداوار میں اضافے اور گھروں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے سخت محنت سے کام کیا ہے اور زراعت، مینوفیکچرنگ، خدمات، آبی منصوبوں، غریبوں کے لئے گھروں کی تعمیر احساس پروگرام سمیت دیگر شعبوں کی ترقی اور بہتری کے لیے اصلاحاتی ایجنڈا کے تحت مائیکرو اور میکرو سطح کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں، حکومت نے کورونا وائرس کے خلاف موثر حکمت عملی کے تحت کامیابی حاصل کی ہے۔ حکومتی پالیسیوں کے تجزیہ سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد کرپشن کو روکنے کے اقدامات اٹھائے کیونکہ یہ اقتصادی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، پی ٹی آئی کی حکومت نے کرپشن کے خاتمے اور احتسابی عمل آگے بڑھانے کے ٹھوس اقدامات کیے گزشتہ حکومتوں کی خراب پالیسیوں کی وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنا پڑا اور ماضی کے قرضوں کا بوجھ اتارنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑ رہی ہے آئی ایم ایف پروگرام جاری ہونے اور سہ ماہی کارکردگی کی بنیاد پر کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ کم کرنے، افراط زر، روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ،شرح سود میں کمی اور سرمایہ کاری میں بہتری آئی ہے ،سی پیک کا نیا فیز شروع ہونے سے زراعت۔مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز ہو گا چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے(ایف ٹی اے ) پر دستخط ہونے سے پاکستانی مصنوعات کو بڑی منڈی تک رسائی ممکن ہوئی ہے ،یورپی یونین اور مشرق وسطی اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مستحکم ہوئے ہیں اور اقتصادی صورت حال بحالی کے راستے پر گامزن ہے سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں بہتری آئی ہے عمران خان نے بغیر کسی کے دباو¿ میں آئے کرپشن کے خاتمے کیلئے کام کیا اور کرپشن کی لعنت کے خاتمے کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنایا کیونکہ کرپشن نے معیشت سمیت دیگر شعبوں کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے وزیراعظم عمران خان نے گندم ،چینی اور دیگر ایشوز کے حقائق تک پہچنے کیلئے کمیشن بنائے، ریونیو کو بڑھانے کے لیے حکومتی اقدامات کے باعث ٹیکس نیٹ کو بڑھانے میں کامیابی سے کام کیا ہے اور ٹیکس کے شعبہ میں اصلاحات کی گئی ہیں معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس کا نیا نظام متعارف کروانے میں پیش رفت ہوئی ہے حکومت تاجروں اور کاروباری برداری کے تعاون سے میعاری ٹیکس نظام کے لیے اتفاق ہوا ہے تاکہ ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز ہو سکے، کوویڈ 19 نے معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے مینوفیکچرنگ اور خدمات کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ کوویڈ 19 سے نمٹنے کے لیے این سی او سی کی تشکیل کی گئی صحت کے شعبے کو مستحکم کرنے اور غریب خاندانوں کی مالی مدد کے لیے اربوں روپے دیئے گئے کورونا کے پھیلاو¿ کو کم کرنے کے لیے سمارٹ لاک ڈاو¿ن کی پالیسی اختیار کی گئی۔ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے تعمیرات اور ہاو¿سنگ کے شعبہ کو مراعات دی گئی ہیں تعمیرات کے شعبہ میں ریگولیٹری بوجھ کو کم کرنے اور اس نظام کی نگرانی کے لیے وزیراعظم ہفتہ وار اجلاس کرتے ہیں تاکہ اس شعبہ سے عوام کو ریلیف مل سکے۔موجودہ حکومت نے کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے منظم و موثر حکمت عملی اپنائی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔حکومت نے کم آمدنی والے شہریوں کی سہولت کے لیے آسان شرائط پر قرض دینے کا اعلان کیا ہے، اس سہولت سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی تیار کردہ پالیسی کے تحت مستفید ہو سکیں گے اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے وزیراعظم کی قیادت میں صوبائی اور وفاقی سطح پر حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔تجزیاتی سٹڈی میں واضح کیا گیا ہے کے پاکستان مسابقتی عمل کو فروغ دے کر موجودہ بین الاقوامی معاشی صورت حال سے فایدہ اٹھا سکتا ہے وزیراعظم آئندہ تین سالوں کے دوران سرمایہ کاری،پیداوار اور مسابقت کے عمل میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔