اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):پاکستان سائنس فاؤنڈیشن (پی ایس ایف) کے زیرِ اہتمام منگل کو سائنس و ٹیکنالوجی میں شفافیت اور احتساب کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا جس میں سائنسی اداروں کو مضبوط بنانے اور سائنس پر مبنی پالیسی سازی میں عوامی اعتماد کے فروغ پر زور دیا گیا۔سیمینار میں پالیسی سازوں، سائنسدانوں، محققین اور مختلف سائنسی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی جہاں سائنس و ٹیکنالوجی …
پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام سائنس و ٹیکنالوجی میں شفافیت اور احتساب کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):پاکستان سائنس فاؤنڈیشن (پی ایس ایف) کے زیرِ اہتمام منگل کو سائنس و ٹیکنالوجی میں شفافیت اور احتساب کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا جس میں سائنسی اداروں کو مضبوط بنانے اور سائنس پر مبنی پالیسی سازی میں عوامی اعتماد کے فروغ پر زور دیا گیا۔سیمینار میں پالیسی سازوں، سائنسدانوں، محققین اور مختلف سائنسی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی جہاں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں شفافیت، میرٹ پر مبنی نظام اور ادارہ جاتی احتساب کے فروغ کے لئے بہترین طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ایس ایف ڈاکٹر محمد اکمل نے کہا کہ شفافیت سائنسی ساکھ کی بنیاد ہے۔
انہوں نے واضح تحقیقاتی ترجیحات، شفاف فنڈنگ کے نظام، واضح جانچ کے طریقہ کار اور تحقیق کے نتائج تک عوامی رسائی کو سائنسی اداروں پر اعتماد بڑھانے کے لئے ناگزیر قرار دیا۔تقریب میں پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر)، پاکستان نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل (پی این اے سی) اور پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کی جانب سے تکنیکی پریزنٹیشنز پیش کی گئیں جن میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لئے ریگولیٹری فریم ورک، ادارہ جاتی میکنزم اور عملی اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔
سیمینار میں ایک خصوصی انٹرایکٹو سیشن بھی منعقد ہوا جس میں شرکاء نے اپنی آراء کا تبادلہ کیا اور سائنسی اداروں میں گورننس کو مزید مؤثر بنانے کے لئے عملی تجاویز پیش کیں۔وفاقی سیکرٹری برائے سائنس و ٹیکنالوجی شاہد اقبال بلوچ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سائنس و تحقیق کے اداروں میں دیانتداری، شفافیت اور ذمہ دارانہ انتظامی نظام کے قیام کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت 18 منسلک ادارے کام کر رہے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح اداروں میں مستقل سربراہان کی بروقت تقرری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کئی ادارے طویل عرصے سے مستقل قیادت کے بغیر کام کر رہے ہیں اور ادارے اضافی یا عارضی چارج پر مؤثر طور پر نہیں چل سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ کامسیٹس یونیورسٹی کے ریکٹر کی تقرری حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ مزید دو اداروں کے سربراہان کی تقرری کا نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔وفاقی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس وقت پی ایس ایف میں چند ہی منصوبے جاری ہیں اور تاحال کوئی نیا منصوبہ منظور نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سائنس کے شعبے میں کئی بین الاقوامی معاہدے موجود ہیں اور وزارت نئی تحقیقی سرگرمیوں کے آغاز کے لئے حکومت سے اضافی بجٹ کے حصول کی کوشش کرے گی۔سوالات کے جواب میں انہوں نے پی ایس ایف کے عملے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور پشاور میں پی ایس ایف کے لئے مناسب عمارت کے انتظام کے لئے اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔
چیئرمین پی ایس ایف ڈاکٹر محمد اکمل نے بتایا کہ فاؤنڈیشن نیشنل ریسرچ کمیشن کے قیام کے عمل میں ہے اور جلد ہی ماسٹرز اور پی ایچ ڈی سطح کی تحقیق کے لئے نئے اقدامات کا آغاز کیا جائے گا جس کا مقصد پاکستان میں تحقیق کے شعبے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ایف شفافیت، دیانتداری اور میرٹ پر مبنی فنڈنگ کے اصولوں پر سختی سے کاربند ہے۔
تمام تحقیقی تجاویز واضح اہلیت کے معیار اور آزاد پیئر ریویو کے ذریعے جانچی جاتی ہیں جہاں سائنسی معیار، قومی اہمیت اور سماجی و معاشی اثرات کو مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ ملک بھر کے محققین کو مساوی مواقع فراہم کئے جا سکیں۔سیمینار میں وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی اور مختلف سائنسی و تحقیقی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی جو سائنس کے شعبے میں شفافیت اور احتساب کے فروغ کے لئے وسیع ادارہ جاتی تعاون کا مظہر ہے۔







