پاکستان سمیت اقوام متحدہ کے رکن ممالک کا عالمی سطح پر ڈیجیٹل مساوات اور مصنوعی ذہانت کے مضبوط حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کے عزم کا اظہار

اقوام متحدہ ۔18دسمبر (اے پی پی):پاکستان سمیت اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل مساوات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مضبوط حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے عالمی نظم و نسق سے متعلق ایک بڑے جائزہ عمل کے اختتام پر منعقدہ اجلاس میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرنے اور …

اقوام متحدہ ۔18دسمبر (اے پی پی):پاکستان سمیت اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل مساوات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے مضبوط حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے عالمی نظم و نسق سے متعلق ایک بڑے جائزہ عمل کے اختتام پر منعقدہ اجلاس میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرنے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے حوالے سے مضبوط حفاظتی تدابیر وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اقوام میں پاکستان کے مستقل نمائندےعاصم افتخار احمد نے اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا کہ اگرچہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز نے مواقع میں اضافہ کیا ہے تاہم اس کے ساتھ نئی عدم مساوات بھی جنم لے رہی ہیں جن کے لیے فوری اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔

پاکستا نی مندوب نے کہا کہ ان کی حکومت ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ کن اقدامات کر رہی ہے، جن میں اس سال "ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ” اور "قومی اے آئی پالیسی” کی منظوری شامل ہے جو ایک محفوظ، شمولیتی اور مستقبل کے لیے تیار ڈیجیٹل نظام کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے "اڑان پاکستان”منصوبے کے تحت، جس کا مرکزی حصہ ای۔پاکستان ہے، روابط بڑھانے ، ڈیجیٹل عوامی انفراسٹرکچر کو مستحکم کرنے، ای گورننس کو آگے بڑھانے اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کرنے کی سمت میں کام کر رہا ہے۔انہوں نےورلڈ سمٹ آن انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس )عمل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمام پارٹنرز کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں کہ آئی سی ٹی اور اُبھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شمولیت، مشترکہ خوشحالی اور پائیدار ترقی کے لیے آلے کے طور پر کام کریں۔

واضح رہے کہ یہ دو روزہ اجلاس، جو ورلڈ سمٹ آن انفارمیشن سوسائٹی (WSIS+20) کا حصہ تھا، عالمی سطح پر ڈیجیٹل ترقی، رسائی اور شمولیت کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس تھا۔ ورلڈ سمٹ آن انفارمیشن سوسائٹی 2003 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ دنیا بھر کے ممالک ایک پلیٹ فارم پر آ کر انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز (آئی سی ٹی ) کے فوائد اور خطرات پر بات کریں۔ اب جبکہ انٹرنیٹ زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے، اس اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف لوگوں کو آن لائن لانا کافی نہیں بلکہ یہ ضروری ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز بشمول اے آئی کو اس طرح سے منظم کیا جائے کہ انسانی حقوق کا تحفظ ہو، اعتماد بڑھے اور ڈیجیٹل فرق کم ہو۔

اجلاس کے اختتام پر ایک دستاویز منظور کی گئی جس میں رکن ممالک نے ایک انسانیت پر مبنی ڈیجیٹل مستقبل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس میں ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرنے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مہارتوں میں سرمایہ کاری کرنے اور ڈیجیٹل ترقی کے لیے پالیسی کے ماحول کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس میں ڈیٹا اور اے آئی کے قابل اعتماد حکمرانی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔