پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یوم صفائی اتوار کو منایا گیا

پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یوم صفائی اتوار کو منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد ماحولیاتی آلودگی میں کمی، کچرے کے بہتر انتظام اور صاف ستھرے ماحول کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا ہے۔

اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یوم صفائی اتوار کو منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد ماحولیاتی آلودگی میں کمی، کچرے کے بہتر انتظام اور صاف ستھرے ماحول کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا ہے۔عالمی دن کی مناسبت سے دنیا کے 190 سے زائد ممالک میں کروڑوں رضاکاروں نے صفائی کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ تقریباً 2.1 ارب ٹن بلدیاتی کچرا پیدا ہوتا ہے، اگر کچرے میں اضافے کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک کچرے کی مقدار 3.8 ارب ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی یعنی 2.7 ارب افراد ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں کچرا جمع کرنے کا بنیادی بلدیاتی نظام موجود نہیں ہے۔پاکستان میں سالانہ تقریباً 48.5 ملین ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے جس میں ہر سال 2.4 فیصد اضافہ ہورہا ہے۔ ایک پاکستانی شہری اوسطاً روزانہ 0.283 سے 0.612 کلوگرام کچرا پیدا کرتا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان میں مجموعی کچرے کا صرف 50 سے 60 فیصد حصہ اٹھایا جاتا ہے، جبکہ باقی کچرا سڑکوں، خالی پلاٹوں، ندی نالوں اور سمندر میں پہنچ جاتا ہے، جو بارشوں کے دوران شہری سیلاب اور سمندری آلودگی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ کچرے کو اٹھانے اور منتقل کرنے پر بلدیاتی ادارے سالانہ اربوں روپے خرچ کرتے ہیں، تاہم کچرے کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے اور دوبارہ قابل استعمال بنانے کے انتظامات میں بہتری کی ضرورت ہے۔

ماہرین ماحولیات نے کہا ہے کہ کچرے کے مسئلے کا مؤثر حل صرف صفائی نہیں بلکہ کچرا پیدا ہونے کی مقدار کم کرنا ہے۔ اس کیلئے غیر ضروری اور ایک بار استعمال ہونے والی اشیا سے گریز، غیر ضروری خریداری میں کمی، اشیا کا دوبارہ استعمال، پرانی اشیا کو نئے مقصد کیلئے استعمال کرنے اور نامیاتی کچرے سے کھاد بنانے جیسے اقدامات ضروری ہیں۔کچرے کی تلفی کیلئے خشک، گیلا اور خطرناک کچرا الگ کرنے، پلاسٹک، دھات اور شیشے کو دوبارہ استعمال کرنے، محفوظ لینڈ فلز قائم کرنے اور کچرے سے توانائی پیدا کرنے جیسے طریقے بھی اختیار کیے جاسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کچرے کے بہتر انتظام سے ماحولیاتی آلودگی اور کاربن کے اخراج میں کمی کے ساتھ زیر زمین پانی کو آلودگی سے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔عالمی یوم صفائی کے موقع پر ہونے والی سرگرمیوں کا مقصد صرف کچرا اٹھانا نہیں بلکہ عام آدمی میں صفائی اور ماحول کے تحفظ کی مستقل ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہے۔ عالمی یوم صفائی کے موقع پر مختلف سرکاری، غیر سرکاری، سماجی اور رفاعی اداروں کے زیر اہتمام منعقدہ تقریبات میں کچرے میں کمی، ری سائیکلنگ اور ماحولیاتی آلودگی میں کچرے کے کردار کے حوالہ سے آگاہی پیدا کی گئی۔