بیجنگ۔ 25مئی (اے پی پی) پاکستان قومی ترقی اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے، ملک میں گربت کے خاتمے کے لیے چین میں غربت کے خاتمے کے ماڈل سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے، یہ بات چین میں پاکستان کی سفیر، نغمانہ ہاشمی نے پیپلز ڈیلی کو انٹرویو دیتے ہوئے کی،انہوں نے کہا کہ چین کی کامیابی ہمیں بتاتی ہے کہ غربت طے …
پاکستان قومی ترقی اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کےلئے کوشاں ہےسفیر نغمانہ ہاشمی کا”پیپلز ڈیلی“ کو انٹرویو
بیجنگ۔ 25مئی (اے پی پی) پاکستان قومی ترقی اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہے، ملک میں گربت کے خاتمے کے لیے چین میں غربت کے خاتمے کے ماڈل سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے، یہ بات چین میں پاکستان کی سفیر، نغمانہ ہاشمی نے پیپلز ڈیلی کو انٹرویو دیتے ہوئے کی،انہوں نے کہا کہ چین کی کامیابی ہمیں بتاتی ہے کہ غربت طے شدہ نہیں ہوتی اور اس کو مستقل کاوشوں کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے چین کے تجربے پر روشنی ڈالی ہے جو کہ مقامی حالات کے مطابق غربت کے خاتمے کے منصوبے کامیابی سے عمل پیرا ہوا۔سفیر ہاشمی کا خیال تھا کہ چین کی تیز رفتار ترقی اور خوشحالی نے نہ صرف چینی رہنماوں کی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ چینی عوام کی انتھک کوششیں بھی ظاہر ہوتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ چین ترقی اور خوشحالی کی راہ پر آگے بڑھے گا اور عالمی معاشی، ماحولیاتی اور معاشرتی ترقی میں نئی شراکت داری پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت، عالمی برادری نئے کورونا وائرس کے خلاف لڑ رہی ہے،وبائی بیماری، اور عالمی معاشی کساد بازاری کا خطرہ دن بدن بڑھتا ہی جارہا تھا۔سفیر ہاشمی نے نشاندہی کی کہ مستقبل میں چینی معیشت اور عالمی معیشت کے گہرے انضمام کا موضوع نیشنل پیپلز کانگریس 2020 کے اجلاس کا مرکزی ایجنڈا تھا جو کہ قومی معاشی اور معاشرتی ترقی کے منصوبے پر اندرون اور بیرون ملک مبصرین کی توجہ کا مرکز رہا۔انہوں نے چین کے نئے مسودہ سول کوڈ بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسودہ سول کوڈ میں شہری زندگی کے تمام پہلووں کا احاطہ کیا گیا ہے اس کے ضوابط موجودہ دور کی ناگزیر ضرورت ہیں۔ اگر اسے منظور کیا گیا تو یہ چینی قانون سازی کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ سال وہ سال ہے جب چین ہمہ جہت معاشرے کی تعمیر کرے گا، اور یہ غربت کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا بھی سال ہوگا، چین کے کامیاب ماڈل نے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو قیمتی تجربہ فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قومی ترقی اور معاشرتی اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لئے سخت کوشش کر رہا ہے۔ چین کی غربت کے خاتمے کا ماڈل ہمارے لیے قابل تقلید ہے اور یہ کہ چین کا کامیاب تجربہ ہمیں بتاتا ہےکہ غربت کے خاتمے کا منصوبہ مقامی حالات کے مطابق ہی چلتا ہے۔سفیر ہاشمی نے نئے کورونا وائرس وبا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ چین اس وبا پر قابو پانے والا دنیا کا پہلا ملک ہے، اور چینی معیشت نے پورے بحران میں بڑی لچک دکھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وباءکے بعد، چینی حکومت نے لوگوں کی جانوں اور صحت کے تحفظ میں اس وباءکے پھیلاو کو روکنے کے لیے فوری طور پر موثر اقدامات کیے، وبا کے خلاف چین کی لڑائی کی شاندار فتح نے بلاشبہ یہ ثابت کیا ہے کہ ان کے اقدامات موثر ہیں۔سفیر ہاشمی نے کہا کہ چین کے کامیاب تجربے نے دوسرے ممالک کو اب بھی وبائی امراض کا مقابلہ کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وبائی امراض کے خلاف جنگ میں بین الاقوامی تعاون کے ضمن میں، چین کشادگی اور شفافیت پر عمل پیرا ہے، انہوں نے دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک کو بڑے پیمانے پر امداد فراہم کی ہے۔انہوں نے اس حوالے سے چین کی جانب سے پاکستان میں اٹھائے گئے اقدامات پر چینی حکومت کا مخلصانہ شکریہ ادا کیا اور عالمی برادری سے تعاون کو مستحکم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وبا 70 سالوں میں بین الاقوامی برادری کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوئی ہے۔ فی الحال، عالمی برادری کو اس خطرے پر مکمل طور پر قابو پانے اور اس کے خاتمے کے لئے یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنانا چاہئے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین اور پاکستان پہاڑوں اور ندیوں سے جڑے ہوئے قریبی اور دوست اور پڑوسی ہیں۔ حالیہ برسوں میں، دونوں ممالک کے مابین موسمی تزویراتی تعاون کو مسلسل گہرا کیا گیا ہے، اور مختلف شعبوں میں باہمی فائدہ مند تعاون کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔









