اسلام آباد۔25مارچ (اے پی پی):ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کردہ تپ دق رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تپ دق (ٹی بی) کے مریضوں کی تعداد بدستور بلند سطح پر برقرار ہے جس کے باعث پاکستان دنیا کے اُن پانچ ممالک میں شامل ہے ، جہاں اس مرض کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں پاکستان میں تپ دق کے نئے مریضوں کی تخمینی تعداد …
پاکستان میں تپ دق کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔25مارچ (اے پی پی):ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کردہ تپ دق رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تپ دق (ٹی بی) کے مریضوں کی تعداد بدستور بلند سطح پر برقرار ہے جس کے باعث پاکستان دنیا کے اُن پانچ ممالک میں شامل ہے ، جہاں اس مرض کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں پاکستان میں تپ دق کے نئے مریضوں کی تخمینی تعداد تقریباً 6 لاکھ 70 ہزار رہی، جو عالمی سطح پر مجموعی کیسز کا 6.3 فیصد بنتی ہے۔
اس لحاظ سے پاکستان بھارت، انڈونیشیا، فلپائن اور چین کے بعد پانچویں نمبر پر ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے دوران تقریباً 6 لاکھ 69 ہزار کیسز سرکاری طور پر رپورٹ یا نوٹیفائی کیے گئے، جو 2023 کے 6 لاکھ 62 ہزار کیسز کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ تخمینی کیسز اصل متاثرہ افراد کی تعداد کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ رپورٹڈ کیسز وہ ہوتے ہیں جو باقاعدہ طور پر ریکارڈ میں آتے ہیں۔مزید برآں، 2024 میں تپ دق سے ہونے والی اموات کا تخمینہ تقریباً 47 ہزار لگایا گیا ہے، جبکہ گزشتہ برسوں میں یہ تعداد 46 ہزار سے 48 ہزار کے درمیان رہی ہے۔
اسی طرح انسیڈنس ریٹ 2023 میں فی ایک لاکھ آبادی 277 تھا، جو 2024 میں بھی تقریباً 260 سے 280 کے درمیان برقرار رہا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ہر سال تقریباً 5 سے 7 لاکھ نئے کیسز کا سامنا ہے، اور آبادی میں اضافے کے باعث اس مرض کا پھیلاؤ مستحکم یا بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
قومی سطح پر تپ دق کے کنٹرول کے لیے نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام کے تحت اقدامات جاری ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے اس مرض کی مفت تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ تپ دق مکمل طور پر قابل علاج مرض ہے، تاہم بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر دو ہفتوں سے زائد کھانسی، بخار یا وزن میں کمی جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی صحت مرکز سے رجوع کریں۔








