ایران کے خلاف عدم معاونت ،امریکی صدر کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کرنے کا حکم

ایران کے خلاف عدم معاونت ،امریکی صدر کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کرنے کا حکم

واشنگٹن۔17اگست (اے پی پی):امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مجوزہ مشترکہ فوجی مشقوں کا دائرہ محدود کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ بقول ان کے اس نے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے میں مدد سے انکار کیا ہے۔ اردو نیوز نے اے پی کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر جاری بیان میں یہ بھی کہا کہ ان کے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

ان کے مطابق جنوبی کوریا کے ساتھ رواں ہفتے شروع ہونے والی فوجی مشقیں نہ صرف مہنگی ہیں بلکہ شمالی کوریا کو بھی نامناسب بلکہ دشمنی پر مبنی پیغام دیتی ہیں۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے دورِ صدارت کے دوران نہ صرف شمالی کوریا دھمکی آمیز رویے سے گریز کرتا رہا بلکہ احترام کا مظاہرہ بھی کرتا رہا ۔ان کا کہنا تھ کہ اس وقت چونکہ مشقوں کو کینسل نہیں کیا جا سکتا اس لیے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کو ان میں نمایاں کمی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے صدر سے کہا تھا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوششوں میں شامل ہوں مگر انہوں نے جواب میں نہیں اور ’شکریہ‘ کہا۔11 روز پر مشتمل ان مشقوں میں 18 ہزار جنوبی کورین فوجیوں نے شریک ہونا ہے اور ان کا مقصد شمالی کوریا کی جانب سے لاحق خطرات کے مقابلے میں فوج کو مضبوط کرنا ہے۔ادھر، جمعے کو شمالی کوریا نے امریکا اور جنوبی کوریا کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکی دیتے ہوئے فوجی مشقوں کو جارحیت اور جنگ کی تیاری قرار دیا تھا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ مشترکہ مشقوں میں براہ راست فائرنگ، مشترکہ نشانہ بازی، فوجی نقل و حرکت کی جانچ، پانی سے گزرنے کی پریکٹس کے علاوہ ذخیرہ شدہ فوجی ساز و سامان کی تقسیم شامل تھی۔یہ مشترکہ فوجی مشقیں اقوام متحدہ کی پابندی کے باوجود شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات دوبارہ شروع کیے جانے کے چند روز بعد ہو رہی ہیں۔