پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک کی غزہ کی صورتحال پرامریکی منصوبے پر عملدرآمد کو اسرائیل کی جانب سے مسترد کئے جانے کی مذمت

"پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ تنازع کے خاتمے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے پر عملدرآمد کے روڈ میپ اور فلسطینی ریاست کے قیام کو اسرائیل کی جانب سے مسترد کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔”

اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ تنازع کے خاتمے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے پر عملدرآمد کے روڈ میپ اور فلسطینی ریاست کے قیام کو اسرائیل کی جانب سے مسترد کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔

آٹھ اسلامی ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت منظور شدہ غزہ جامع منصوبے پر عملدرآمد کے روڈ میپ کو مسترد کرنا اور فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرنا جامع منصوبے کی براہِ راست نفی ہے۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اسرائیل کے یہ اقدامات منصوبے پر عملدرآمد کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے کی جانے والی اجتماعی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کے اس مؤقف سے واضح ہوگیا ہے کہ غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کی ذمہ داری اب اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔وزرائے خارجہ کے مطابق روڈ میپ کو فلسطینی دھڑوں نے قبول کیا ہے اور یہ مصر، قطر، ترکیہ، امریکا، غزہ کے اعلیٰ نمائندے اور بورڈ آف پیس کی جانب سے کی جانے والی وسیع سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔روڈ میپ جامع منصوبے کے تحت ہتھیاروں کو غیر فعال کرنے،اسرائیلی افواج کے انخلا، بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی، غزہ کے انتظامی اختیارات قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کو منتقل کرنے اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ روڈ میپ کو مسترد کرنا جامع منصوبے پر عملدرآمد سے واضح انکار کے مترادف ہے اور اس سے غزہ میں جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی وسیع کوششوں کو نقصان پہنچنے کا براہِ راست خطرہ ہے۔وزرائے خارجہ نے اس سلسلے میں امریکا کی مسلسل اور فعال شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو جامع منصوبے اور روڈ میپ کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں اور انتظامات پر مکمل عملدرآمد کا پابند بنایا جائے اور منصوبے کی راہ میں مزید رکاوٹیں پیدا کرنے سے روکا جائے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل اپنے مسلسل انکار، رکاوٹ، تاخیر یا عدم تعمیل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام نتائج کا براہِ راست اور مکمل ذمہ دار ہوگا، جن میں زمینی صورتحال کی مزید خرابی اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں خلل بھی شامل ہے۔آٹھوں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی سنگین انسانی صورتحال سے نمٹنے، وہاں تمام لوگوں کے لیے سلامتی اور استحکام یقینی بنانے، تعمیرِ نو اور بحالی کی راہ ہموار کرنے اور منصفانہ و دیرپا امن کے حصول کے لیے جامع منصوبے پر فوری اور مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کو بین الاقوامی قانون کے مطابق تسلیم کرنے پر زور دیتے ہوئے یکطرفہ اقدامات سمیت فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کو ختم یا مسترد کرنے کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کردیا۔بیان میں کہا گیا کہ منصفانہ، دیرپا اور جامع امن صرف دو ریاستی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس کے لیے 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہےجس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو اور جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہو۔وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کو ختم کرنے یا مسترد کرنے کی کوئی بھی کوشش پورے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے امکانات کو براہِ راست نقصان پہنچائے گی۔اعلامیے میں بورڈ آف پیس کے مسلسل کردار کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا اور تمام فریقوں سے روڈ میپ پر عملدرآمد اور صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے بورڈ کی کوششوں کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔وزرائے خارجہ نے بورڈ آف پیس پر زور دیا کہ امریکا کی فعال حمایت اور شمولیت کے ساتھ اپنے مینڈیٹ کے تحت فوری اور ٹھوس اقدامات کرے، جامع منصوبے کی سالمیت کو برقرار رکھے اور کسی بھی فریق کو اس پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالنے سے روکے۔