قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاسوں کا 111 نکاتی ایجنڈا جاری،قومی اسمبلی اجلاس دورانیہ اور دیگر اہم امور کے لئے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس بھی طلب

"وفاقی دارالحکومت میں کل پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس منعقد ہوں گے، جن میں قانون سازی اور عوامی اہمیت کے امور پر غور کیا جائے گا۔”

اسلام آباد۔16اگست (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت میں کل پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں قانون سازی اور عوامی اہمیت کے امور کےغور کے لئے دونوں ایوانوں کا اجلاس منعقد ہوگا۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کے لیے مجموعی طور پر 111 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔ ان اہم اجلاسوں سے قبل ایوان زیریں کی کارروائی، سیشن کے دورانیے اور دیگر اہم امور پر غوروخوض کے لیے قومی اسمبلی کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اہم اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس قومی اسمبلی کے باقاعدہ اجلاس سے قبل سہ پہر 4 بجے سپیکر لاؤنج میں سپیکر کی زیرِ صدارت منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں قومی اسمبلی کے موجودہ سیشن کا دورانیہ طے کرنے کے ساتھ ساتھ ایوان میں چلائے جانے والے بزنس کو حتمی شکل دی جائے گی اور دیگر متعلقہ امور پر بھی غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں شرکت کے لیے حکومت اور اپوزیشن رہنمائوں کو مدعو کیا گیا ہے جن میں ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ، وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چوہدری ، اسد قیصر، سید نوید قمر اور بیرسٹر گوہر علی خان شامل ہیں۔ کل پیر کی شام 5 بجے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کا 42 نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا ہے۔ ایجنڈے کے مطابق ارکان کی جانب سے اسلام آباد میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت، واٹر پیوریفکیشن پلانٹس کی تنصیب اور شکرپڑیاں میں قومی عجائب گھر کی تعمیر کے لیے اراضی الاٹمنٹ میں تاخیر پر توجہ دلاؤ نوٹسز پیش کیے جائیں گے۔ ایوان میں ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹس، نیچرل گیس سرچارج اور گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس سمیت کئی نئے ترمیمی بلز متعارف کرائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کامرس، دفاع، نجکاری اور میری ٹائم افیئرز کی قائمہ کمیٹیاں انشورنس بل اور کاپی رائٹ ترمیمی بل سمیت مختلف بلز پر اپنی رپورٹس پیش کریں گی۔ سینیٹ سے منظور شدہ ٹریول ایجنسیز ایکٹ، پاکستان ٹورسٹ گائیڈز ایکٹ اور موشن پکچرز آرڈیننس میں ترامیم کے بلز بھی حتمی منظوری کے لیے ایوان کے سامنے رکھے جائیں گے۔ایوانِ بالا (سینیٹ) کا اجلاس سہ پہر 4 بجے منعقد ہوگا جس کے لیے 69 نکات پر مشتمل طویل ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔ سینیٹ کی کارروائی میں لوک ورثہ، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی، سول سرونٹس ایکٹ اور ایریا سٹڈی سینٹرز سمیت مختلف بلز پر قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس ایوان میں پیش کی جائیں گی۔ نجی ارکان کی جانب سے اسلام آباد میں ڈسپوزایبل سرنجوں کے استعمال کو کنٹرول کرنے اور فوجداری قوانین میں ترامیم کے بلز ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ، ایوان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مبینہ بے ضابطگیوں، پوسٹ پارٹم ہیمرج کے باعث زچگی کی اموات میں اضافے، تجارتی خسارے، پاکستان ریلوے کی کارکردگی اور مون سون سیلاب سے نمٹنے کے لیے این ڈی ایم اے کی تیاریوں جیسے اہم عوامی امور پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔ ایجنڈے میں انسانی حقوق، رواداری اور سماجی انصاف کے فروغ کے لیے آئمہ اور خطیبوں کی تربیت کے حوالے سے اور شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرنے کی قراردادیں بھی منظوری کے لیے شامل ہیں۔