پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث افغان عناصر کے ٹھوس شواہد ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ سکیو رٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے علاقے مستونگ میں ہونے والے حملے میں ہلاک فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں میں افغان باشندے شامل پائے گئے ہیں۔
پاکستان میں دہشتگردی میں افغان عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ گئے، مستونگ حملے میں ہلاک دہشتگردوں سے افغان دستاویزات برآمد

مزید خبریں
راولپنڈی/کوئٹہ۔24ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث افغان عناصر کے ٹھوس شواہد ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ سکیو رٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے علاقے مستونگ میں ہونے والے حملے میں ہلاک فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں میں افغان باشندے شامل پائے گئے ہیں۔
کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گرد ذوالفقار عرف ابو عمر کے قبضے سے افغان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) کا باضابطہ کارڈ برآمد ہوا ہے، جبکہ ایک اور ہلاک دہشت گرد خلیل احمد سے افغان قومی شناختی دستاویز (تذکرہ) ملی ہے۔
سکیو رٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تخریب کاری کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” اور طالبان رجیم کا گھناؤنا گٹھ جوڑ پہلے بھی انٹیلی جنس رپورٹس میں بے نقاب ہو چکا ہے۔ خفیہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں "را” اور افغان طالبان انٹیلی جنس کے درمیان مشترکہ خفیہ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا تھا، جس کے تحت بھارتی ایجنسی نے بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے 78 لاکھ ڈالرز کی خطیر رقم فراہم کی تھی۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ کی ہدایات پر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو جدید ترین اسلحہ اور لاجسٹک سپورٹ مہیا کی گئی، جبکہ طالبان رجیم کی جانب سے اسلحے کی فراہمی کے لیے لکھا گیا باضابطہ خط بھی اس گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی "را” افغان طالبان رجیم کے تعاون سے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو دہشت گردوں کی تربیت، مالی معاونت اور محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر مسلسل استعمال کر رہی ہے۔








