پاکستان میں عدالتی نظام کے ارتقاء کی اپنی تاریخ ہے، دیگر ممالک کی طرح پاکستان کا اپنا عدالتی نظام ہے جو وقت کے ساتھ پنپ رہا ہے چیف جسٹس آف پاکستان کا نیشنل سیکورٹی اینڈ وار کورس 2021ء کے شرکاء سے خطاب

اسلام آباد ۔ 3 ستمبر (اے پی پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان کا اپنا عدالتی نظام ہے جو وقت کے ساتھ پنپ رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان نے نیشنل سیکورٹی اینڈ وار کورس 2021ء کے شرکاء سے جمعرات کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کو سپریم کورٹ میں خوش آمدیدکہتا ہوں، سپریم کورٹ …

اسلام آباد ۔ 3 ستمبر (اے پی پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان کا اپنا عدالتی نظام ہے جو وقت کے ساتھ پنپ رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان نے نیشنل سیکورٹی اینڈ وار کورس 2021ء کے شرکاء سے جمعرات کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کو سپریم کورٹ میں خوش آمدیدکہتا ہوں، سپریم کورٹ میں آپ کے آنے کا مقصد پاکستان کے عدالتی نظام بارے آگاہی دینا ہے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے عدالتی نظام کی اپنی تاریخ ہے پاکستان بننے کے بعد عدالتی نظام اپنے تجربات سے پنپا ہے اور بہتری کا عمل جاری رہے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں عدالتی نظام کے ارتقاء کی اپنی تاریخ ہے، آئین کا آرٹیکل 175عدالتی نظام کا احاطہ کرتا ہے، عدلیہ ریاست کا اہم ستون ہے، آئین کے مطابق سپریم کورٹ اور ماتحت عدلیہ کے اختیارات واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو وفاقی اور صوبوں کے مابین تنازعات کے حل کا اختیار بھی حاصل ہے جبکہ عدالت عظمیٰ کو بنیادی حقوق کی عملداری سے متعلق آئینی درخواستوں پر سماعت کا اختیار کے ساتھ ساتھ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرانے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل175 کے تحت ملک میں سپریم کورٹ اور ہر صوبے کیلئے ہائی کورٹس کے نظام کا احاطہ کرتا ہے صدارتی حکم نمبر ایک 1980 کے تحت ملک میں وفاقی شرعی عدالت قائم ہے جبکہ ملک میں منفرد مقدمات کیلئے خاص قوانین کے تحت سپیشل عدالتیں بھی بنائی گئیں ہیں۔ ملکی عدالتی نظام بارے چیف جسٹس نے شرکا کو بتا یا کہ عدالتوں میں سب سے پہلے سول مقدمات کیلئے سول جج کی عدالت کہلاتی ہے کراچی میں ڈیڑھ کڑوڑ سے زائد کے مقدمات کیلئے ہائیکورٹ جبکہ اس سے کم مقدمات سول عدالت کے دائیر اختیار میں آتے ہیں ڈسٹرکٹ جج کے پاس سول عدالتوں کے مقدمات کے اپیل کا اختیار رکھتی ہیں۔ اور ہائیکورٹس ضلعی عدالتوں کے احکامات، فیصلوں پر جائزہ کا اختیار رکھتی ہیں جبکہ مقدمات کی آخری اپیل سپریم کورٹ کے دائیر اختیار میں آتی ہے۔ہائیکورٹ اختیارات بارے چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کوخاص اختیارات حاصل ہیں۔یائیکورٹ ان اختیارات کے تحت ماتحت عدالت کو ہدایات جاری کر سکتی ہے۔ہائیکورٹ دو حکومتوں وفاقی اور صوبائی کے درمیان تنازعات پر بھی اپنا اختیار رکھتی ہے جبکہ آئینی مقدمات کے ذریعے بنیادی عوامی حقوق کے مقدمات سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں ہیں جبکہ صدر مملکت کی جانب سے بھیجے گئے اہم قانونی نکات پر بھی سپریم کورٹ رائے دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہائیکورٹس اور سول عدالتوں کی جانب سے دیئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا اختیار بھی ان کے پاس ہے۔ انہوں نے بتایا کہسپریم کورٹ کی جانب سے دیئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد متعلقہ ہائیکورٹ کراتی ہے ہائیکورٹ، ضلعی اور سول عدالتیں اپنے فیصلے کا جائزہ لے سکتیں ہیں جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کسی مجرمانہ عمل پر تین سال تک سزا سے متعلق کیس سن کر فیصلہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرعی عدالت کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل سننے والابینچ شریعت اپیلٹ بینچ کہلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مختلف قوانین کے ذریعے سپیشل کورٹس قائم کی گئیں ہیں جن میں بینکنگ، لیبر، انکم ٹیکس، ملازمت سے متعلق خصوصی عدالتیں شامل ہیں۔ تقریب میں نیشنل سیکورٹی اینڈ وار کورس 2021ء کے وفد، سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء اور عدالت عظمیٰ کے ججز نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے نیشنل سیکورٹی اینڈ وار کورس 2021ء کے چیف انسٹرکٹر میجر جنرل عنایت حسین کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔