پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لئے پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہوگا،کان درزی اولو

اسلام آباد۔31مئی (اے پی پی):ویون کے گروپ چیف کان درزی اولو نے کہا ہے کہ آج ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی اسٹوری الیکٹرک کار،یا آرٹیفشل انٹیلیجنس ہے، پاکستان ایک ڈیٹا پیدا کرنے والا ملک ہے،خوشحالی کو پیدا کرنے اور غربت کے خاتمے کے لئے پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو لیڈرز ان اسلام آباد سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ …

اسلام آباد۔31مئی (اے پی پی):ویون کے گروپ چیف کان درزی اولو نے کہا ہے کہ آج ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی اسٹوری الیکٹرک کار،یا آرٹیفشل انٹیلیجنس ہے، پاکستان ایک ڈیٹا پیدا کرنے والا ملک ہے،خوشحالی کو پیدا کرنے اور غربت کے خاتمے کے لئے پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو لیڈرز ان اسلام آباد سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ مشکلات جو بھی ہوں آپ کو امید نہیں چھوڑنا چاہیئے ۔ کان درزی اولو نے کہا کہ اگر پیداواری صلاحیت ایک فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھائی جائے تو اس کو دگنا کرنے میں 70 سال لگیں گے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2.9 ارب افراد یعنی دنیا کی 37 فیصدآبادی کے پاس انٹرنیٹ نہیں ہے۔

ویون کمپنی جاز ، جاز کیش، موبی لنک بینک اور موبائل ایپ تماشہ کے زریعے پاکستان میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ پر بہت زیادہ ٹیکس ہے۔ سمارٹ ڈیوائس پر ٹیکس عائد کیا ہوا ہے،پاکستان کی آبادی 2047 میں 40 کروڑ ہو جائے گی، ہمیں پاکستان کے نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہیں، ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے ذریعے ہی پاکستان میں پسماندہ طبقات تک مالیاتی خدمات پہنچائی جاسکتی ہیں۔ کان درزی اولو نے کہا کہ لوگوں کو انٹرنیٹ تک آسان رسائی سے تعلیم کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

کان درزی اولونے کہا کہ پاکستان کے کسان اور ٹیچرز اس ٹیکنالوجی کےذریعے تعلیم یافتہ ہوسکتے ہیں۔ پاکستان ڈیٹا بنانے والا ایک بڑا ملک ہے، پاکستان کا ڈیٹا پاکستان میں ہی رہنا چاہیے، پاکستان کے انجینئرز ہی اس ڈیٹا کو پراسس کریں اور نئی مصنوعات بنائیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے ڈیٹا کی لوٹ کو روکنا ہوگا،پاکستان کو فور جی ٹیکنالوجی سارے ملک کے لئے فراہم کرنا ہوگی، ہم پاکستان میں صرف ایک طبقہ کیلئے فایئو جی ٹیکنالوجی کی فراہمی کے حامی نہیں ہیں، پاکستان میں 3 فیصد سے کم موبائل فونز فائیو جی کو استعمال کرسکتے ہیں۔

کوشش کرنا چاہیےکہ ہر پاکستانی کے پاس موبایل فون ہو جو کہ اس کی ذاتی ترقی، کارپوریٹ ترقی میں استعمال ہو۔ پاکستان میں ٹیکنالوجی مصنوعات بنانے کی سہولیات فراہم کرنا ہوگی۔