سیالکوٹ۔ 25 اکتوبر (اے پی پی):ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ سیالکوٹ ڈاکٹر انعام علی اطہر نے کہا ہے کہ پاکستان میں پولٹری فارمنگ کی صنعت ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بعد دوسری بڑی صنعت کا درجہ اختیار کر گئی ہے، پولٹری فارمنگ کی صنعت سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرغبانی کی …
پاکستان میں پولٹری فارمنگ کی صنعت میں اضافہ ہو ا ہے ،ڈاکٹر انعام علی اطہر
سیالکوٹ۔ 25 اکتوبر (اے پی پی):ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ سیالکوٹ ڈاکٹر انعام علی اطہر نے کہا ہے کہ پاکستان میں پولٹری فارمنگ کی صنعت ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بعد دوسری بڑی صنعت کا درجہ اختیار کر گئی ہے، پولٹری فارمنگ کی صنعت سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ مرغبانی کی صنعت تیزی سے فروغ پا رہی ہے تاہم اس ضمن میں ضروری اقدامات کو مد نظر نہ رکھا جا رہا ہے جس سے مرغی خانوں میں بیماریاں پھیلنے کے خدشات بھی موجود رہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یو ں تو بہت سی صنعتوں میں قابل ذکر ترقی ہوئی ہے لیکن جو ترقی مرغبانی کے میدان میں ہوئی اورہو رہی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے، اس صنعت سے وابستہ سٹیک ہولڈرز، سائنسدانوں، ماہرین لائیوسٹاک اور تاجروں نے بڑی لگن اور شب و روز کی محنت سے اسے بام عروج تک پہنچایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں ماحول کنٹرول سسٹم اشد ضروری ہے اسلئے اگر برائلر فارم لگانامقصود ہوتو کم از کم 25ہزار کی گنجائش کا شیڈ ہونا اور اگر انڈے والی مرغی رکھنا ہو تو کم ازکم 30ہزار لیئر مرغی کارکھنا اشد ضروری ہے تاکہ پولٹری فارم سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جا سکے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک نے کہا کہ جس جگہ پر پولٹری فارم لگانا مطلوب ہو اس جگہ کے پانی کا پہلے لیبارٹری ٹیسٹ کروانا ضروری ہے تاکہ اس بات کا علم ہو سکے کہ یہ پانی مرغیوں کیلئے مفید ہے یا نہیں، ایسی جگہ پر فارم لگانے سے گریز کرنا چاہیے کہ جہاں بارش کا پانی کھڑا رہنے، سیلاب آنے یا بجلی کی سپلائی میں رکاوٹ کا خطرہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجوزہ پولٹری فارم کے ساتھ چاول یا دھان کی فصل کاشت کی جاتی ہو تو ایسی زمین کیساتھ بھی پولٹری فارم لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔









