پاکستان میں پہلی ڈبلیو ایچ او پبلک پرائیویٹ کونسل کا آغاز

"عالمی ادارۂ صحت، حکومتِ پاکستان اور ملک کے 20 ممتاز کاروباری رہنماؤں نے مشترکہ طور پر پاکستان میں پہلی ڈبلیو ایچ او پبلک پرائیویٹ کونسل کا آغاز کر دیا ہے۔”

اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، حکومت پاکستان اور ملک کے 20 ممتاز کاروباری رہنمائوں نے مشترکہ طور پر پاکستان میں پہلی ڈبلیو ایچ او پبلک پرائیویٹ کونسل کا آغاز کر دیا ہے۔

اس کونسل کا مقصد عوامی صحت کے فروغ، قومی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے، صحت سے متعلق پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول اور عالمی صحت کے وعدوں پر عملدرآمد کو تیز کرنا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حنان بلخی نے کہا کہ یہ کونسل کاروباری اور فلاحی شعبے کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر پاکستان اور خطے کے لیے صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شراکت داری کے ذریعے صحت کو قومی ترجیحات میں نمایاں مقام دلانے، مالی وسائل، ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، انفراسٹرکچر، نیٹ ورکس اور مہارتوں سے بھرپور استفادہ کرنے اور ایک مضبوط و دیرپا تعاون کو فروغ دینے میں مدد ملے گی تاکہ ہر فرد، بلاامتیاز، بہتر صحت کی سہولیات سے مستفید ہو سکے۔کونسل کے چیئرمین عزیز میمن نے کہا کہ یہ اقدام کاروباری برادری اور عالمی ادارہ صحت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں پاکستان کی خوشحالی اور عوامی صحت کو یکجا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری قیادت ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مل کر عوامی صحت کے فروغ میں موثر کردار ادا کرے گی اور منظم شراکت داری کے ذریعے انفرادی کوششوں کو اجتماعی طاقت میں تبدیل کیا جائے گا۔وفاقی سیکرٹری برائے قومی صحت محمد اسلم غوری جو کونسل کے شریک چیئرمین بھی ہیں، نے کہا کہ حکومتِ پاکستان قومی صحت کی ترجیحات کے حصول کے لیے اس کونسل کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا وژن ہر پاکستانی کو یونیورسل ہیلتھ کوریج کی فراہمی ہے جس کا خاکہ قومی صحت حکمت عملی 2026-2035 میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ دس برسوں کے قومی سفر میں تمام شعبوں کی شمولیت ناگزیر ہے کیونکہ صحت کے یہ اہداف کسی ایک حکومت کے لیے تنہا حاصل کرنا ممکن نہیں۔افتتاحی تقریب میں مشرقی بحیرہ روم کے لیے ڈبلیو ایچ او کی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بلخی، کونسل کے چیئرمین عزیز میمن، وفاقی سیکرٹری برائے قومی صحت محمد اسلم غوری، پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لوو داپینگ اور کاروباری شعبے و جامعات سے تعلق رکھنے والے 20 بانی اراکین نے شرکت کی۔پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لوو داپینگ نے کہا کہ عوامی و نجی شعبے کے درمیان شراکت داری طبی سائنس کی طاقت کو عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے اور جانیں بچانے کے لیے بروئے کار لانے کا موثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کونسل کی سب سے بڑی کامیابی صرف مالی تعاون نہیں بلکہ کاروباری قیادت کی وہ موثر آواز ہوگی جو مختلف شعبوں میں صحت کے فروغ کے لیے رائے عامہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈبلیو ایچ او، حکومت پاکستان اور عوام کے ساتھ مل کر ایک صحت مند اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔