اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) عالمی بینک نے کہاہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی وباء سے بحالی کے عمل میں خواتین کو توجہ کا مرکز بنانا ضروری ہے۔ پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرالانگوپیچوموتو نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹرپر جاری اپنے پیغام اورمنسلکہ آرٹیکل میں کہاہے کہ کورونا وائرس کی بحالی کی سماجی اوراقتصادی پالیسیوں میں خواتین کی ضروریات کا خیال رکھنے کو …
پاکستان میں کورونا وائرس کی وباء سے بحالی کے عمل میں خواتین کو توجہ کا مرکز بنانا ضروری ہے،کورونا وائرس کی بحالی کی سماجی اوراقتصادی پالیسیوں میں خواتین کی ضروریات کا خیال رکھنے کو مقدم رکھنا چاہیے، ، کنٹری ڈائریکٹرعالمی بینک

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) عالمی بینک نے کہاہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی وباء سے بحالی کے عمل میں خواتین کو توجہ کا مرکز بنانا ضروری ہے۔ پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹرالانگوپیچوموتو نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹرپر جاری اپنے پیغام اورمنسلکہ آرٹیکل میں کہاہے کہ کورونا وائرس کی بحالی کی سماجی اوراقتصادی پالیسیوں میں خواتین کی ضروریات کا خیال رکھنے کو مقدم رکھنا چاہئیے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان چھوٹے کاروبارکی بحالی کیلئے جو منصوبہ بنارہاہے اس میں کاروبارکرنے والی خواتین کی بحالی کو شامل کیاگیاہے، ایسا کرنا ضروری ہے کیونکہ کوروناوائرس کی وباء کی وجہ پاکستان میں ہزاروںکاروباری خواتین اور کام کرنے والی خواتین بری طرح سے متاثرہوئی ہیں، کاروبارکرنے والی خواتین کو آمدنی میں شدید کمی کا سامنا کرنا پڑاہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک حالیہ جائزہ میں میں معلوم ہواہے کہ وباء کے دوران پاکستان میں کاروبارکرنے والی خواتین مردکاروباریوں سے 8 فیصد زیادہ متاثرہوئی ہیں اوروباء کے عرصہ میں ان کو پورے ریونیو کے نقصان کاسامنا کرناپڑسکتاہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان عالمی بینک کے تعاون سے چھوٹے کاروبار بالخصوص خواتین کے کاروبارکی بحالی کیلئے ایک پراجیکٹ بنارہاہے، اس پراجیکٹ کے تحت کام کرنے والی خواتین کو سمارٹ فونز مہیا کئے جائیں گے اورپھر انہیں کاروبارکی بحالی کیلئے آن لائن تربیت فراہم کی جائیگی۔ انہوں نے مزید کہاکہ عالمی بینک اوراقوام متحدہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو خواتین کیلئے محفوظ ٹرانسپورٹ، چائیلڈ کئیر سپورٹ، اورکام کیلئے ہراسانی سے محفوظ ماحول کی فراہمی میں پالیسی اورپروگرام بنانے میں معاونت فراہم کررہے ہیں۔







