پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے)اسلام آباد میں ڈولفن کمیونیکیشن کے تعاون سے عظیم صوفی شاعر، موسیقار، ادیب اور مفکر حضرت امیر خسروؒ کی شخصیت اور علمی و فنی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی تھیٹر ڈرامہ ’’امیر خسرو‘‘پیش کیا گیا جسے شائقینِ فن، ادب، موسیقی اور تصوف کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی
پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں خصوصی تھیٹر ڈرامہ امیر خسروپیش ، بھرپور پذیرائی ملی

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے)اسلام آباد میں ڈولفن کمیونیکیشن کے تعاون سے عظیم صوفی شاعر، موسیقار، ادیب اور مفکر حضرت امیر خسروؒ کی شخصیت اور علمی و فنی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی تھیٹر ڈرامہ ’’امیر خسرو‘‘پیش کیا گیا جسے شائقینِ فن، ادب، موسیقی اور تصوف کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔یہ پیشکش محض ایک تاریخی کردار کی عکاسی نہیں تھی بلکہ امیر خسرو کی ہمہ جہت شخصیت، ان کی فکر، شاعری، روحانیت، موسیقی اور برصغیر کی مشترکہ تہذیبی روایت میں ان کے نمایاں کردار کو تھیٹر کے مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی ایک خوبصورت کاوش تھی۔حضرت امیر خسروؒ کو برصغیر کی تہذیبی تاریخ کی ایک منفرد شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ وہ فارسی کے عظیم شاعر، ہندوی زبان کے اہم ادبی نمائندے، صوفی، موسیقار اور مورخ تھے۔ ان کی شخصیت میں فارسی و ہندوستانی تہذیب کے مختلف رنگ ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں جس نے انہیں برصغیر کی مشترکہ ثقافتی شناخت کا ایک اہم استعارہ بنا دیا۔ڈرامے میں خصوصی طور پر ان کی شاعری اور ادبی خدمات، صوفیانہ فکر، حضرت نظام الدین اولیاءؒ سے روحانی وابستگی، موسیقی کے میدان میں ان کی خدمات، قوالی کی روایت سے ان کا تعلق اور برصغیر کی زبان و ثقافت پر ان کے اثرات کو مختلف کرداروں اور مکالموں کے ذریعے پیش کیا گیا۔ امیر خسروؒ کو قوالی کی تشکیل و فروغ اور برصغیر میں غزل کے موسیقائی انداز کے فروغ کے حوالے سے بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔ پیشکش کا ایک اہم پہلو حضرت امیر خسروؒ اور حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے روحانی تعلق کو اجاگر کرنا بھی تھا۔ یہ تعلق برصغیر کی صوفیانہ روایت میں محبت، عقیدت اور مرشد و مرید کے تعلق کی ایک نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔ ڈرامے میں امیر خسروؒ کا کردار کلیم خان جبکہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کا کردار شاہد مغل نے ادا کیا۔ نیلم ارشد نے راوی کے فرائض انجام دیے جبکہ دیگر فنکاروں نے تاریخی، ادبی اور ثقافتی کرداروں کو خوبصورتی سے پیش کیا۔پروگرام میں روایتی موسیقی، طبلہ، سارنگی اور صوفیانہ رنگ نے پیشکش کو مزید مؤثر بنایا جبکہ فنکاروں کی پرفارمنس اور مکالموں نے حاضرین کو امیر خسروؒ کے عہد اور ان کی فکری و روحانی دنیا سے جوڑ دیا۔تحریر ارشد چہال نے کی، ہدایات محمد وقار عظیم کی تھیں جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر و پروڈیوسر عاصمہ اسماعیل بٹ کی نگرانی میں یہ ڈرامہ پیش کیا گیا۔پروگرام میں فن، ادب، موسیقی اور تصوف سے محبت رکھنے والے شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور ہال میں موجود حاضرین نے مختلف مناظر، مکالموں، موسیقی اور فنکاروں کی پرفارمنس کو بھرپور داد دی۔پروگرام کے اختتام پر حاضرین کا کہنا تھا کہ ’’امیر خسرو‘‘ جیسی تخلیقی پیشکشیں نہ صرف ہماری عظیم ادبی و صوفیانہ روایت کو زندہ رکھتی ہیں بلکہ نئی نسل کو برصغیر کے ایسے عظیم فنکاروں اور مفکرین کی خدمات سے روشناس کرانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) ملک کے عظیم ادبی، تاریخی، صوفیانہ اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے اس نوعیت کے معیاری پروگراموں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔ پی این سی اے کا عزم ہے کہ فن، ادب، موسیقی اور ثقافت سے وابستہ ایسی تخلیقی اور بامقصد سرگرمیوں کو مسلسل فروغ دیا جائے تاکہ نئی نسل کو اپنی شاندار تہذیبی و ثقافتی روایات سے روشناس کرایا جا سکے۔







