پاکستان نے سستی قابل تجدید توانائی خصوصاً سولر پاور کا رخ کیا ہے، ملک میں روف ٹاپ سولر انقلابی رفتار سے بڑھ رہا ہے، سینیٹر شیری رحمان

اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):پاکستان پیپلزپارٹی کی نائب صدر اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے سستی قابل تجدید توانائی خصوصاً سولر پاور کا رخ کیا ہے اور ملک میں روف ٹاپ سولر انقلابی رفتار سے بڑھ رہا ہے، ہمیں تعمیرات کے لیے نئے اور جدید حل تلاش کرنے ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے …

اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):پاکستان پیپلزپارٹی کی نائب صدر اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے سستی قابل تجدید توانائی خصوصاً سولر پاور کا رخ کیا ہے اور ملک میں روف ٹاپ سولر انقلابی رفتار سے بڑھ رہا ہے، ہمیں تعمیرات کے لیے نئے اور جدید حل تلاش کرنے ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سسٹین ایبلٹی سمٹ اینڈ ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سسٹین ایبلٹی سمٹ کی بنیادی توجہ پائیدار تعمیرات پر ہونی چاہیے، پاکستان میں گرین بلڈنگ کوڈز موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہایت کم ہے،کلائیمٹ رسک انڈیکس 2022 کے مطابق پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ ماحولیاتی اثرات کا شکار ملک ہے، شہری منصوبہ بندی اور مستقبل کی تعمیرات میں اربنائزیشن کو بنیادی جزو کے طور پر سمجھنا ضروری ہے،سیمنٹ انڈسٹری ملک کے 49 فیصد اخراجات کی ذمہ دار ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ تعمیراتی طریقوں کو لازمی طور پر پائیداری کے راستے پر لانا ہوگا، بلڈنگ کوڈز میں سرکلر ماڈلز اور ری یوز کے اصول شامل کرنا ناگزیر ہے،حکومت کو انفراسٹرکچر کی مضبوطی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ لوگ محفوظ اور پائیدار زندگی گزار سکیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اربنائزیشن تیزی سے بڑھتا ہوا رجحان ہے،ہمارے پاس پری اربن علاقے ہیں جہاں بڑے بڑے پھیلاؤ اب قصبوں کی شکل اختیار کر رہے ہیں،ان بستیوں کو مناسب ویسٹ ڈسپوزل کیضرورت ہے،پاکستان کا 88 فیصد علاقہ نیم شہری نوعیت رکھتا ہے،پاکستان ایشیا میں تیز ترین اربنائزیشن کرنے والے ممالک میں شامل ہے، ہمیں روایتی تعمیراتی ماڈلز سے ہٹ کر دوبارہ قابل استعمال وسائل پر مبنی تعمیرات اپنانا ہوں گی۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ویسٹ میں کمی، مواد کے موثر استعمال اور سرکلر معیشت کی طرف جانا ناگزیر ہے،ہماری تعمیراتی اشیا کو مزید پائیدار ہونا چاہیے تاکہ کمیونٹیز کی تعمیر بہتر ہو سکے، اس میں غیر رسمی تعمیراتی شعبے کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سستی قابل تجدید توانائی خصوصاً سولر پاور کا رخ کیا ہے اور ملک میں روف ٹاپ سولر انقلابی رفتار سے بڑھ رہا ہے،ملک میں توانائی کی فراہمی اب ضرورت سے زائد ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تعمیرات کے لیے نئی اور جدید حل تلاش کرنے ہوں گے،تعمیرات کا مستقبل ری جنریٹیو ماڈلز پر مبنی ہے جس میں ریڈیوس، ری یوز اور ری سائیکل کے اصول شامل ہیں،پاکستان میں عملی میدان میں ری یوز اور ری سائیکلنگ ہوتی ہےلیکن سرکاری اعداد و شمار حیران کن حد تک کم ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ عالمی سطح پر 9 فیصد جبکہ پاکستان میں پلاسٹک کی صرف ایک فیصد ری سائیکلنگ ہو رہی ہے،اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے حل تلاش کیے جائیں اور انہیں دیرپا بنیادوں پر بڑے پیمانے پر نافذ کیا جائے،ہمیں دیکھنا ہوگا کہ پاکستان میں کیا موثر ثابت ہو سکتا ہے اور کیا اختیار کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے 30 فیصد کچرے کا تعلق تعمیراتی اور ڈیمولیشن ویسٹ سے ہے، پاکستانی قوم بچت کرنے کی عادی ہے اور ہم مکمل طور پر ویسٹ اکانومی نہیں ہیں، ہم بہت سا کچرا پیدا کرتے ہیں لیکن اسے بڑی حد تک دوبارہ استعمال بھی کرتے ہیں،راول ڈیم میں روزانہ 9 ملین گیلن فضلہ ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیمنیٹڈ مصنوعات اور ایکو برِکس کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ پائیدار تعمیرات ممکن ہو سکیں،سیمنٹ اور سٹیل سب سے بڑے آلودگی پھیلانے والے شعبے ہیں،نیدرلینڈز اور فن لینڈ نے اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کئے ہیں، تعمیرات میں ایسے مٹیریل استعمال کرنا ہوں گے جو مکمل طور پر پائیدار ہوں،کراچی کے سرکلر پراجیکٹس اس سمت میں اہم پیش رفت کی مثال ہیں،یہ تمام اقدامات آپ کی فیڈریشن کی جانب سے ہی انجام دیے جانے چاہئیں، تعمیراتی صنعت کے لیے واضح سنگ میل مقرر کیے جائیں،ایس پی ایچ ایف کا کردار اس سلسلے میں نہایت اہم ہے۔