پاکستان نے 2021 سے 2025 کے دوران کپاس کی 14 نئی اقسام کی منظوری دی ہے جن میں بہتر فائبر معیار، زیادہ جننگ آؤٹ ٹرن (جی او ٹی)، گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت اور گلابی سنڈی کے خلاف مزاحمت جیسی خصوصیات شامل ہیں جس سے ملک کے کپاس کے بیجوں کے ذخیرے کو تقویت ملے گی اور ٹیکسٹائل ویلیو چین کو فروغ حاصل ہوگا۔
پاکستان نے ٹیکسٹائل صنعت کے فروغ کے لئے کپاس کی 14 اعلیٰ معیار کی اقسام تیار کر لیں
اسلام آباد۔4اگست (اے پی پی):پاکستان نے 2021 سے 2025 کے دوران کپاس کی 14 نئی اقسام کی منظوری دی ہے جن میں بہتر فائبر معیار، زیادہ جننگ آؤٹ ٹرن (جی او ٹی)، گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت اور گلابی سنڈی کے خلاف مزاحمت جیسی خصوصیات شامل ہیں جس سے ملک کے کپاس کے بیجوں کے ذخیرے کو تقویت ملے گی اور ٹیکسٹائل ویلیو چین کو فروغ حاصل ہوگا۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ اقسام دو بڑے تحقیقی اداروں، سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی سی آر آئی) ملتان اور سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی سی آر آئی) سکرنڈ، سندھ نے تیار کی ہیں۔ سی سی آر آئی ملتان نے 11 جبکہ سی سی آر آئی سکرنڈ نے 3 اقسام تیار کیں۔سی سی آر آئی ملتان کی تیار کردہ منظور شدہ اقسام میں بی ٹی سی آئی ایم-663، بی ٹی سی آئی ایم-678، بی ٹی سی آئی ایم-785، بی ٹی سائٹو-535، سائٹو-226، سی آئی ایم-775، سی آئی ایم-343، سائٹو-537، سائٹو-511، بی ٹی سی آئی ایم-775 اور بی ٹی سی آئی ایم-990 شامل ہیں، جبکہ سی سی آر آئی سکرنڈ کی تیار کردہ اقسام بی ٹی کریس-682، بی ٹی کریس-674 اور کریس-644 ہیں۔
دستاویزات کے مطابق نئی اقسام میں جننگ آؤٹ ٹرن (جی او ٹی) 38.2 فیصد سے 42.3 فیصد، فائبر کی لمبائی 29.6 ملی میٹر تک اور فائبر کی مضبوطی 33.5 تک ریکارڈ کی گئی۔دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ کپاس کے معیار کا تعین صرف پیداوار سے نہیں بلکہ مائیکرونائر، فائبر کی مضبوطی اور جننگ آؤٹ ٹرن جیسے اشاریوں سے بھی کیا جاتا ہے، جو اسپننگ ملز، جننگ فیکٹریوں اور ٹیکسٹائل صنعت کے لئے انتہائی اہم ہیں۔مائیکرونائر فائبر کی باریکی اور پختگی کا پیمانہ ہے جو دھاگہ بنانے، رنگ جذب کرنے اور کپڑے کے معیار پر اثرانداز ہوتا ہے۔
بیشتر سپننگ ملز کے لئے 3.5 سے 4.9 کے درمیان مائیکرونائر کو مثالی سمجھا جاتا ہے جبکہ تمام نئی منظور شدہ اقسام اسی حد میں ہیں۔اسی طرح فائبر کی مضبوطی سے مراد وہ قوت ہے جو کپاس کا ریشہ ٹوٹنے سے پہلے برداشت کر سکتا ہے۔ یہ دھاگے کی مضبوطی، سپننگ کی کارکردگی اور کپڑے کی پائیداری پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ 28 سے 30 تک فائبر سٹرینتھ کو اچھی، 30 سے 32 کو بہت اچھی جبکہ 32 سے زیادہ کو بہترین سمجھا جاتا ہے۔ نئی اقسام میں فائبر کی مضبوطی 28.3 سے 33.5 کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح نئی اقسام میں جننگ آؤٹ ٹرن 38.2 فیصد سے 42.3 فیصد کے درمیان رہا۔ عموماً 38 سے 40 فیصد جی او ٹی کو اچھا جبکہ 40 فیصد سے زیادہ کو بہترین تصور کیا جاتا ہے۔دستاویزات کے مطابق سی آئی ایم-775، جسے 2023 میں سی سی آر آئی ملتان نے متعارف کرایا، نے 42.3 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ جننگ آؤٹ ٹرن ریکارڈ کیا۔
اس کی فائبر لمبائی 27.1 ملی میٹر، مائکرونائر 4.8 اور فائبر مضبوطی 28.6 رہی جبکہ اسے کاٹن لیف کرل وائرس (سی ایل سی یو وی) کے خلاف انتہائی مزاحم قرار دیا گیا۔بی ٹی سائٹو-535، جسے 2021 میں منظور کیا گیا، نے 41.5 فیصد جی او ٹی، 28.4 ملی میٹر فائبر لمبائی، 3.97 مائکرونائر اور 28.85 فائبر مضبوطی ریکارڈ کی۔ دستاویزات کے مطابق اس قسم میں عمدہ فائبر خصوصیات، بڑے ٹینڈے اور زیادہ پیداوار کی صلاحیت موجود ہے۔سائٹو-537، جو 2023 میں منظور ہوئی، نے 41 فیصد جی او ٹی، 28.3 ملی میٹر فائبر لمبائی، 3.8 مائکرونائر اور 31.5 فائبر مضبوطی ریکارڈ کی، جبکہ اسے اچھی فائبر کوالٹی اور زیادہ پیداوار دینے والی قسم قرار دیا گیا۔سائٹو-226 نے نئی اقسام میں سب سے زیادہ 29.6 ملی میٹر فائبر لمبائی ریکارڈ کی۔ 2021 میں منظور ہونے والی اس قسم کا جی او ٹی 40.3 فیصد، مائکرونائر 4.89 اور فائبر مضبوطی 28.44 رہی۔ دستاویزات کے مطابق یہ بھی زیادہ پیداوار اور بہتر فائبر خصوصیات رکھنے والی قسم ہے۔
دستاویزات میں موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اور کیڑوں سے محفوظ اقسام کی تیاری پر خصوصی توجہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔بی ٹی سی آئی ایم-663، جسے 2021 میں منظور کیا گیا، گرمی برداشت کرنے والی زیادہ پیداوار دینے والی قسم ہے، جس میں جی او ٹی 40.2 فیصد، فائبر لمبائی 28.6 ملی میٹر، مائکرونائر 4.1 اور فائبر مضبوطی 30.4 ریکارڈ کی گئی۔بی ٹی سی آئی ایم-678 کو بھی گرمی برداشت کرنے والی، زیادہ پیداوار دینے والی اور جلد و یکساں پکنے والی قسم قرار دیا گیا ہے۔بی ٹی سی آئی ایم-785 میں گرمی برداشت کرنے، گلابی سنڈی کے خلاف مزاحمت اور زیادہ پیداوار جیسی خصوصیات یکجا کی گئی ہیں۔ اس قسم میں جی او ٹی 40 فیصد، فائبر لمبائی 28.8 ملی میٹر، مائکرونائر 4.7 اور فائبر مضبوطی 31.2 ریکارڈ کی گئی۔سی آئی ایم-343 نے فائبر کے معیار کے حوالے سے سب سے زیادہ 33.5 فائبر مضبوطی ریکارڈ کی، جو تمام نئی اقسام میں سب سے زیادہ ہے۔
2023 میں منظور ہونے والی اس قسم کو خشک سالی برداشت کرنے والی اور گلابی سنڈی کے خلاف مزاحم بھی قرار دیا گیا ہے۔دستاویزات کے مطابق سی سی آر آئی سکرنڈ کی تیار کردہ تینوں اقسام نے سندھ کے کردار کو کپاس کی بہتری کے قومی پروگرام میں مزید مضبوط کیا ہے۔بی ٹی کریس-682 اور بی ٹی کریس-674، جنہیں 2024 میں منظور کیا گیا، دونوں کا جی او ٹی 38.5 فیصد رہا۔ بی ٹی کریس-682 کی فائبر لمبائی 28 ملی میٹر، مائکرونائر 4.7 اور فائبر مضبوطی 29.1 رہی، جبکہ بی ٹی کریس-674 میں 28.2 ملی میٹر فائبر لمبائی، 4.6 مائیکرونائر اور 29.3 فائبر مضبوطی ریکارڈ کی گئی۔کریس-644، جو سی سی آر آئی سکرنڈ کی تیسری قسم ہے، نے 40.5 فیصد جی او ٹی، 28.4 ملی میٹر فائبر لمبائی، 4.4 مائیکرونائر اور 28.3 فائبر مضبوطی ریکارڈ کی جبکہ اسے نان بی ٹی اور زیادہ پیداوار دینے والی قسم قرار دیا گیا ہے۔









