پاکستان پیپلزپارٹی نے 18ویں ترمیم ذاتی جاگیر بنا لی ہے، اپوزیشن کہتی ہے کہ 18ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہو سکتی، قوانین ملک کے مفادات کو مدنظر رکھ کر بنانے چاہییں، وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 15 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے 18ویں ترمیم کو ذاتی جاگیر بنا لیا ہے، اپوزیشن کہتی ہے کہ 18ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہو سکتی، قوانین ملک کے مفادات کو مدنظر رکھ کر بنانے چاہییں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت صوبوں کی مساوی ترقی اور انہیں حقوق دینے پر یقین …

اسلام آباد ۔ 15 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے 18ویں ترمیم کو ذاتی جاگیر بنا لیا ہے، اپوزیشن کہتی ہے کہ 18ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہو سکتی، قوانین ملک کے مفادات کو مدنظر رکھ کر بنانے چاہییں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت صوبوں کی مساوی ترقی اور انہیں حقوق دینے پر یقین رکھتی ہے، ملکی حالات بدلتے رہتے ہیں اس لئے ملک کے مفاد اور ضروریات کے مطابق قوانین میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، موجودہ حکومت ملک کی بہتری کیلئے جو کرنا ہوا کرے گی۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے، یہ ہر چیز پر سیاست کر رہے ہیں، وقت نے ثابت کیا ہے کہ کورونا وائرس کے دوران وزیراعظم عمران خان کی حکمت عملی موثر رہی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو 10 سال ہو گئے ہیں، دیکھنا ہو گا کہ ترمیم کسی ایک خاص طرف ہے یا اس سے ملک کو فائدہ ہو گا، آئین اور قانون ریاست کے نظام کو سہولت دینے کیلئے بنتے ہیں، ایسے قوانین کا کیا فائدہ جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کی بعض شقوں پر بحث ہونی چاہیے اور اپوزیشن کو چاہیے کہ اس پر بحث کرے، اپوزیشن کے اتفاق رائے کے بغیر آئین میں ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ شبلی فراز نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کام قانون سازی کرنا ہے، جن قوانین میں تبدیلی یا مزید بہتری لائی جا سکتی ہے تو یہ پارلیمنٹ کا فرض ہے کہ وہ ان قوانین پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبوں کی مساوی ترقی اور انہیں حقوق دینے پر یقین رکھتی ہے، اسی حوالے سے کابینہ چاہتی ہے کہ صوبائی فنانس ایوارڈز بھی جاری ہونے چاہییں اور کابینہ نے خیبرپختونخوا اور پنجاب حکومت کو صوبائی فنانس ایوارڈز تشکیل دینے کی اجازت دیدی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا 18ویں ترمیم کو ایشو بنا کر کراچی سے اسلام آباد آنے کی بات مذاق ہے، قوانین انفرادی نہیں بلکہ ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر بنانے چاہییں۔

مزید خبریں