پاکستان-چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران پاکستان کے فارماسیوٹیکل شعبے میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پاکستان-چین بی ٹو بی کانفرنس: فارماسیوٹیکل شعبے میں 100 ملین ڈالر کے معاہدے

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):پاکستان-چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران پاکستان کے فارماسیوٹیکل شعبے میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔جمعہ کو وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کے ہمراہ پاکستان-چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کے موقع پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان کے فارماسیوٹیکل سیکٹر کے لئے آج کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کانفرنس میں فارماسیوٹیکل شعبے کی تمام چھ اہم کیٹیگریز کا احاطہ کیا گیا ہے جس سے یہ پاکستان کے فارماسیوٹیکل سیکٹر کی ایک اہم عالمی کانفرنس بن گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 170 چینی وفود شریک ہیں جبکہ آج فارماسیوٹیکل سیکٹر میں 100 ملین امریکی ڈالر کے معاہدے طے پا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، ڈریپ اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان گزشتہ چھ ہفتوں سے مسلسل مشاورت جاری تھی جبکہ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر نے بھی اس کانفرنس کی تیاری کے لئے درجنوں اجلاس منعقد کئے۔
ان کے مطابق کانفرنس کے ہر پہلو پر تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے تفصیلی مشاورت کی گئی اور وزارتِ صحت، ڈریپ اور دیگر اداروں کے درمیان مکمل ہم آہنگی کے ساتھ اس کا انعقاد ممکن بنایا گیا۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزارتِ اطلاعات نے کانفرنس سے متعلق تمام دستاویزات کا چینی زبان میں ترجمہ کیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان مؤثر رابطے کو فروغ ملا۔انہوں نے اس کانفرنس کو پاکستان کے لئے ’’گیم چینجر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے دنیا کے سامنے پاکستان کی استعداد، سرمایہ کاری کے مواقع اور مثبت تشخص اجاگر ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ذریعے پاکستان نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرے گا جبکہ فارماسیوٹیکل شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ وزیراعظم کا وژن پاکستان کو فارماسیوٹیکل صنعت میں نئی عالمی منڈیوں تک لے جانا ہے اور یہ کانفرنس اسی وژن کی عملی تعبیر ثابت ہوگی۔انہوں نے کانفرنس کی کامیاب تیاری اور انعقاد میں کردار ادا کرنے والے تمام اداروں، شراکت داروں اور سٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان یہ تعاون مستقبل میں مزید مضبوط اقتصادی اور صنعتی روابط کی بنیاد بنے گا۔








