نیویارک ۔22جولائی (اے پی پی):نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری کو مقصد، عاجزی اور عزم کے ساتھ نبھانے کی کوشش کر رہا ہے، ہمارا نقطہ نظر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد ، اصولوں، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور کثیرالجہتی مقاصد کے لئے ثابت قدم عزم پر مبنی ہے ،کونسل کی طرف سے …
پاکستان کا امن کیلئے عزم اصولی، پائیدار اور مستقل ہے،پاکستان سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری کو مقصد، عاجزی اور عزم کے ساتھ نبھانے کی کوشش کر رہا ہے،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

مزید خبریں
نیویارک ۔22جولائی (اے پی پی):نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری کو مقصد، عاجزی اور عزم کے ساتھ نبھانے کی کوشش کر رہا ہے، ہمارا نقطہ نظر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد ، اصولوں، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور کثیرالجہتی مقاصد کے لئے ثابت قدم عزم پر مبنی ہے ،کونسل کی طرف سے تنازعات کے پرامن تصفیے کے لئے میکانزم کو مضبوط بنانے کے موضوع پر قرارداد 2788 کی منظوری پر بے حد مسرت ہے، یہ قرارداد درحقیقت چارٹر اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے عین مطابق بحرالکاہل میں تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کو آگے بڑھانے کے لیے ہماری اجتماعی خواہش اور عزم کا ایک خوش آئند اظہار ہے،
قرارداد کے حق میں اتفاق رائے پر کونسل کے تمام اراکین کے شکر گزار ہیں ، بین الاقوامی برادری کو حل طلب تنازعات، بڑھتی ہوئی کشیدگی، نئے اور ابھرتے ہوئے بحرانوں کے انتہائی پریشان کن منظر نامے کا سامنا ہے، جغرافیائی سیاسی رقابت، کثیر الجہتی اداروں پر اعتماد میں کمی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل عدم تعمیل بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے لئے ہمارے مشترکہ عزم کو کمزور کرتی ہے،جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے پرانے تنازعات میں سے ایک ہے، یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کیا جانا ہے، ہم غزہ اور مقبوضہ علاقوں میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں،
پاکستان کی خارجہ پالیسی اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں یعنی ریاستوں کی خودمختاری، عدم مداخلت، حق خودارادیت اور تنازعات کے پرامن تصفیے پر مبنی ہے، ہم نے ہمیشہ محاذ آرائی پر سفارتکاری اور پولرائزیشن پر شراکت داری کو ترجیح دی ہے، ہم ایک ایسی دنیا کے خواہاں ہیں جو تنازعات کی وجہ سے تقسیم نہ ہو بلکہ تعاون اور پرامن بقائے باہمی سے متحد ہو۔ ان خیالات کا اظہار منگل کو پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’’کثیر الجہتی اور تنازعات کے پرامن حل کے ذریعے بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ‘‘ کے موضوع پر اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’’کثیر الجہتی اور تنازعات کے پرامن تصفیے کے ذریعے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو فروغ دینا‘‘ کے اہم موضوع پر آج کے اعلی ٰ سطحی کھلے مباحثے کی صدارت کرنا میرے لئے بڑے اعزاز اور خوشی کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری کو مقصد، عاجزی اور عزم کے ساتھ نبھانے کی کوشش کر رہا ہے، ہمارا نقطہ نظر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد ، اصولوں، بین الاقوامی قانون کے احترام اور کثیرالجہتی کے لئے ثابت قدم عزم پر مبنی رہے گا۔انہوں نے کہا کہ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے فکرانگیز اور بصیرت افروز تبصرے پر شکر گزار ہوں ، ہم سیکرٹری جنرل کی قیادت اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج عظیم نظریات کو برقرار رکھنے کے عزم کو دل کی گہرائیوں سے سراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کے مباحثے میں اقوام متحدہ کے اراکین کی اعلیٰ سطحی دلچسپی اور وزارتی سطح کی شرکت کو بھی سراہتا ہوں اور خیر مقدم کرتا ہوں ، ہمیں ان کے مفید خیالات سننے کا موقع ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے کونسل کی طرف سےتنازعات کے پرامن تصفیے کے لئے میکانزم کو مضبوط بنانے کے موضوع پر قرارداد 2788 کی منظوری پر بے حد خوشی ہے، یہ قرارداد درحقیقت چارٹر اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے عین مطابق بحرالکاہل میں تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کو آگے بڑھانے کی ہماری اجتماعی خواہش اور عزم کا ایک خوش آئند اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے تمام ارکان کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اہم اتفاق رائے کے حصول میں پاکستانی وفد کے ساتھ مثبت اور تعمیری ہم آہنگی کا اظہار کیا ۔
انہوں نے کہا کہ آج کا مباحثہ بروقت بھی ہے اور اس کی اشد ضرورت تھی ، کثیرالجہتی محض ایک سفارتی سہولت نہیں ہے بلکہ یہ وقت کی ضرورت ہے، تنازعات کا پرامن حل صرف ایک اصول نہیں بلکہ یہ عالمی استحکام کی لائف لائن ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو حل طلب تنازعات، بڑھتی ہوئی کشیدگی ، نئے اور ابھرتے ہوئے بحرانوں کے انتہائی پریشان کن منظر نامے کا سامنا ہے، جغرافیائی سیاسی رقابت، کثیر الجہتی اداروں پر اعتماد میں کمی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل عدم تعمیل بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے لئے ہمارے مشترکہ عزم کو کمزور کرتی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا بھر میں حل طلب تنازعات دیرینہ تنازعات کی شکل اختیار کر چکے ہیں، دنیا بھر کے کئی خطوں میں جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں، ان بحرانوں نے ناقابل بیان انسانی مصائب کو جنم دیا ہے، لاکھوں افراد کو بے گھر کیا ہے جبکہ انصاف اور امن کی فراہمی کی بین الاقوامی نظام کی صلاحیت پر ہمارے اجتماعی اعتماد کو کمزور کیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمیں اجتماعی طور پر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پائیدار امن ، طاقت کے اظہار یا یکطرفہ اقدامات کے ذریعے نہیں بلکہ بات چیت، باہمی احترام اور جامع سفارتکاری کے ذریعے قائم ہوتا ہے، کثیرالجہتی کی مرکزیت جس کا مستقبل کے معاہدے میں اعادہ کیا گیا ہے، تنازعات کی روک تھام اور حل کے لئے ضروری اعتماد سازی اور تعاون کے لئے ایک فریم ورک پیش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی عزم اور قوت پر پختہ یقین رکھتا ہے، اقوام متحدہ کے دیرینہ رکن اور اقوام متحدہ کے قیام امن میں سب سے زیادہ فوجی بھیجنے والے ممالک میں سے ایک کی حیثیت سے پاکستان کا امن کے لیے عزم اصولی، پائیدار اور مستقل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کا پرامن حل صرف اخلاقی یا قانونی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک تزویراتی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں باب 6 کے تحت مذاکرات، انکوائری، ثالثی، مصالحت اور عدالتی حل سمیت تنازعات کے حل کے لیے جامع وسائل فراہم کیے جانے کے باوجود یہ طریقہ کار کم استعمال یا لاگو کیا جاتا ہے، اس سلسلے میں سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داری ہونے کے باوجود ہم حل طلب تنازعات کے تسلسل اور پھیلاؤ کو دیکھ رہے ہیں ،جن میں سے بہت سے تصفیہ طلب تنازعات دہائیوں سے کونسل کے ایجنڈے پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی چند قراردادوں پر عمل درآمد، دوہرے معیار کی علامت ہے اور انسانی اصولوں کی سیاست نے اس کی ساکھ اور تاثیر کو ختم کر دیا ہے، فلسطین میں جاری سانحات اور بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر اس بدحالی کی واضح مثالیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام بالخصوص غزہ میں طویل مصائب اس بات کی واضح یاد دلاتے ہیں کہ اس مسئلے کے منصفانہ اور دیرپا حل کی اشد ضرورت ہے، غزہ پر اسرائیل کے حالیہ حملوں میں 58 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، انسانی صورتحال سنگین ہے اور شہری تشدد اور محرومی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، ہم غزہ اور مقبوضہ علاقوں میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں، اس جنگ بندی کو وسیع تر اور پائیدار امن کے لئے ایک سنگ میل کے طور پر لاگو کرنا چاہئے ۔
ہمیں پوری امید ہے کہ دو ریاستی حل پر ہونے والی کانفرنس سیاسی افق کو دوبارہ کھولے گی اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور پرامن حل کی کوششوں کا باعث بنے گی جس سے 1967 ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے خطے میں امن کی خواہش پر بھی قائم ہے لیکن یہ کوشش یکطرفہ نہیں ہو سکتی، اس کے لیے باہمی تعاون، خلوص اور بامقصد مذاکرات کے لیے آمادگی کی ضرورت ہے جس کے لیے پاکستان تیار ہے، جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے پرانے تنازعات میں سے ایک ہے، یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کیا جانا ہے، کوئی بھی کاسمیٹک اقدامات کشمیریوں کے بنیادی اور ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے متبادل کے طور پر کام نہیں کر سکتے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں فراہم کی گئی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان 65 سال پرانا سندھ طاس معاہدہ (آئی ڈبلیو ٹی) مذاکرات اور سفارتکاری کی ایک قابل ذکر مثال ہے جو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کے سمجھوتے پر پرامن طریقے سے پہنچنے کے لئے کام کر رہا ہے، اس معاہدے نے دوطرفہ تعلقات میں آزمائشوں اور مصائب کے ادوار کا سامنا کیا ، یہ انتہائی بدقسمتی اور افسوسناک بات ہے کہ بھارت نے اس معاہدے کو بے بنیاد طور پر غیر قانونی اور یکطرفہ طور پر روکنے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد پاکستان کے 240 ملین عوام کا پانی بند کرنا ہے جو اپنی خوراک وزراعت اور بقا کے لئے اس پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً تمام تنازعات کے مرکز میں کثیرالجہتی کا بحران ہے ، پائیدار امن کا راستہ تنازعات کے پرامن حل میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں اقوام متحدہ کے نظام پر اعتماد کو بحال کرنا ہوگا جس کے لئے بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر تمام تنازعات کے حل کےلئے مساوی برتائو کو یقینی بنانا ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں تنازعات کو حل کرنے میں بین الاقوامی قانون خاص طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی بالادستی کو برقرار رکھنا ہوگا، آج کی دنیا میں دھمکی یا طاقت کے استعمال، غیر ملکی قبضے یا حق خودارادیت سے انکار کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ابھرتے ہوئے تنازعات اور دیرینہ حل طلب تنازعات کے حل کےلئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اختیارات کا موثر طریقے سے استعمال ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات کا پرامن تصفیہ استثنیٰ کے بغیر ایک معمول ہونا چاہیے ۔ محمد اسحا ق ڈار نے کہا کہ ہم چارٹر کے چیپٹر 8 کے تحت علاقائی شراکت داری کو فروغ دے سکتے ہیں تاکہ سیاق و سباق سے متعلق جامع حل کی حمایت کے ساتھ ساتھ ابتدائی سفارتی اقدامات میں اضافہ کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں یعنی ریاستوں کی خودمختاری، عدم مداخلت، حق خودارادیت اور تنازعات کے پرامن تصفیے پر مبنی ہے، ہم نے ہمیشہ محاذ آرائی پر سفارتکاری، تنہائی پر مصروفیت اور پولرائزیشن پر شراکت داری کو ترجیح دی ہے، ہم ایک ایسی دنیا کے خواہاں ہیں جو تنازعات کی وجہ سے تقسیم نہ ہو بلکہ تعاون اور پرامن بقائے باہمی سے متحد ہو۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر دنیا بھر کے عوام کے ذمہ دار ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کو صرف مکالمے کے پلیٹ فارم کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے ادارے کے طور پر بھی زیادہ متعلقہ بنائیں جو انصاف کی فراہمی ، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور پائیدار امن کو فروغ دیتا ہے۔








