منامہ۔27جنوری (اے پی پی):پاکستان نے ایشیائی پارلیمانی اسمبلی (اے پی اے) کے 16 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر بین التہذیبی وثقافتی مکالمے کے فروغ کے لیے اپنے پختہ عزم کا بھرپور اعادہ کرتے ہوئے ایشیا میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے پارلیمانی سطح پر مشترکہ کاوشوں پر زور دیا۔سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق پاکستانی پارلیمانی وفد جس کی قیادت ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے …
پاکستان کا ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے 16 ویں سالانہ اجلاس میں بین التہذیبی وثقافتی مکالمے کے فروغ کے عزم کا اعادہ

مزید خبریں
منامہ۔27جنوری (اے پی پی):پاکستان نے ایشیائی پارلیمانی اسمبلی (اے پی اے) کے 16 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر بین التہذیبی وثقافتی مکالمے کے فروغ کے لیے اپنے پختہ عزم کا بھرپور اعادہ کرتے ہوئے ایشیا میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے پارلیمانی سطح پر مشترکہ کاوشوں پر زور دیا۔سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق پاکستانی پارلیمانی وفد جس کی قیادت ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے چیئرمین سینیٹر افنان اللہ خان کر رہے ہیں جو ان دنوں بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقدہ ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے 16 ویں اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
وفد میں سینیٹر گردیپ سنگھ، سینیٹر محمد اسلم ابڑو جبکہ رکن قومی اسمبلی تسکین اختر نیازی بھی شامل ہیں۔سینیٹر افنان اللہ خان نے پاکستان کی پارلیمنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے اجلاس سے خطاب میں ایشیا میں پرامن بقائے باہمی، باہمی احترام اور پائیدار ترقی کے لیے بین التہذیبی مکالمے کو بنیادی ستون قرار دیا۔ انہوں نے بحرین کی مجلس نمائندگان کے سپیکر اور ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے صدر احمد بن سلمان المسلم کو اے پی اے کی صدارت سنبھالنے پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے مبارکباد پیش کی اور تنظیم کی 20 ویں سالگرہ کے تاریخی موقع پر مملکت بحرین کی میزبانی کو سراہا۔
انہوں نے ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے سابق صدر کی قیادت اور اے پی اے سیکرٹریٹ کے موثر انتظامات کی بھی تعریف کی۔ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے شرکا سے خطاب میں سینیٹر افنان اللہ خان نے معاشی بے یقینی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، معاشرتی تقسیم اور عدم برداشت جیسے بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانوں پر یہ خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جامع طرز حکمرانی کو فروغ دیں، باہمی ہم آہنگی کو مضبوط کریں اور مکالمے کو قانون سازی، احتساب اور عوامی نمائندگی کے ذریعے موثر عوامی پالیسی میں ڈھالیں۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایشیا کی اصل طاقت اس کے عظیم تہذیبی ورثے میں مضمر ہے جو صدیوں پر محیط بقائے باہمی، مکالمے اور باہمی سیکھنے کی روایت کا امین ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الثقافتی اور بین المذاہب مکالمہ اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ انتہا پسندی، جھوٹی معلومات اور معاشرتی تقسیم کا موثر تدارک کرنے کے لیے ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔پاکستان کے تاریخی اور آئینی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ پاکستان کا کثیر الثقافتی اور ہم آہنگ معاشرتی نظریہ اس کی تہذیب اور آئین میں ایستادہ ہے جو مذہبی آزادی، قانون کی نظر میں برابری اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کے ادارہ جاتی اقدامات اور سینیٹ آف پاکستان میں اقلیتی کاکس جیسے فورمز کا ذکر کیا جو رواداری کے فروغ اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
وفد کے سربراہ نے عالمی سطح پر پاکستان کے فعال کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں امن اور رواداری کے فروغ، مذہبی مقامات کے تحفظ اور بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے کے لیے مشترکہ قراردادوں میں اہم کردار ادا کرنے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کرتارپور راہداری کو بین المذہب ہم آہنگی مکالمے سے عملی تعاون میں بدلنے کی ایک زندہ مثال قرار دیا جو عوامی روابط اور باہمی اعتماد کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔سینیٹر افنان اللہ خان نے پاکستان کی پہلی قومی ثقافتی پالیسی (2018)، نیشنل ہسٹری میوزیم کے قیام، تاریخی ورثے کے تحفظ کے منصوبوں اور ثقافتی احیاء کے اقدامات کو سماجی ہم آہنگی اور جامع قومی شناخت کے فروغ کی عملی کوششیں قرار دیا۔
انہوں نے ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اے پی اے علاقائی سطح پر مشترکہ پارلیمانی اقدامات، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ چیلنجز کے مؤثر حل کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، جو اپنی قراردادوں اور مسلسل روابط کے ذریعے ایشیا کے عوام کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔خطاب کے اختتام پر سینیٹر افنان اللہ خان نے اے پی اے کے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کے تعمیری اور فعال تعاون کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ بین التہذیبی اور ثقافتی مکالمے کو پارلیمانی سطح پر مستقل ترجیح بنایا جائے تاکہ ایشیا کے تنوع کو اتحاد، استقامت اور مشترکہ ترقی کا ذریعہ بنایا جا سکے۔







