پاکستان کا جدید ٹیکنالوجی سے لیس انسانی بنیادوں پر اقوام متحدہ کی امن مشننگ کا مطالبہ

پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے امن مشنز کے مینڈیٹ کو جدید، اہلکاروں کی سلامتی کو بہتر اور آپریشنل کارکردگی میں اضافہ کیا جائے، تاہم زمینی سطح پر انسانی موجودگی کو کم نہیں ہونا چاہیے

اقوام متحدہ ۔19ستمبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے امن مشنز کے مینڈیٹ کو جدید، اہلکاروں کی سلامتی کو بہتر اور آپریشنل کارکردگی میں اضافہ کیا جائے، تاہم زمینی سطح پر انسانی موجودگی کو کم نہیں ہونا چاہیے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امن مشنز سے متعلق بحث میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن دستے بڑھتے ہوئے پیچیدہ اور پرخطر حالات میں وسیع تر ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، جبکہ وسائل میں کمی واقع ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اہم سرگرمی امن مشننگ کے لیے سیاسی حمایت، قابلِ عمل مینڈیٹ، پائیدار وسائل، مناسب صلاحیتوں، میزبان ریاست کے تعاون اور عالمی برادری کے مستقل عزم کی ضرورت ہے۔سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان گزشتہ چھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ فوجی دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اب تک 170,000 سے زائد پاکستانی اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں، جن میں سے 183 اہلکاروں نے قیام امن کی کوششوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ برائے بھارت و پاکستان کی میزبانی بھی کر رہا ہے، جس کا مینڈیٹ جموں و کشمیر میں جنگ بندی کی نگرانی کرنا ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ امن مشننگ اس وقت حقیقی دباؤ کا شکار ہے۔ 2014 کے بعد کوئی نیا امن مشن قائم نہیں کیا گیا جبکہ بڑھتی ہوئی سیاسی اور مالی مشکلات کے باعث متعدد مشنز ختم بھی کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اسے امن مشننگ کے لیے عالمی حمایت میں کمی نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ 1960 کی دہائی سے یہ عمل توسیع اور کمی کے مختلف ادوار سے گزرا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ امن مشنز کے مینڈیٹ کو محدود کرنے کا مطلب امن مشننگ کو کم کرنا نہیں بلکہ اسے زیادہ مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔ مالی حدود طے کرکے مشن کو ان حدود میں محدود کرنے کے بجائے ضروریات کے مطابق وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں۔