اسلام آباد ۔ 10 جون (اے پی پی) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے9 جون کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے جندروٹ سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں دو خواتین سمیت چار بیگناہ شہری شدید زخمی ہو گئے۔ بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ کے …
پاکستان کا لائن آف کنٹرول کے جندروٹ سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر بھارت سے شدید احتجاج،بھارتی اعلی سفارتکار دفتر خارجہ طلب،احتجاجی مراسلہ حوالے کیا
اسلام آباد ۔ 10 جون (اے پی پی) بھارتی سینئر سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے9 جون کو قابض بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے جندروٹ سیکٹر میں جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں دو خواتین سمیت چار بیگناہ شہری شدید زخمی ہو گئے۔ بدھ کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سینئر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالہ کیا اور کہا کہ قابض بھارتی افواج ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری کی مسلسل خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آرٹلری، بھاری اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ بھارتی سفارتکار کا بتایا گیا کہ شہری آبادیوں کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل افسوس، انسانی عظمت و وقار، عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے صریحاً منافی ہے۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں جس کا نتیجہ سٹرٹیجک غلطی کی صورت نکل سکتا ہے۔ بھارت نے رواں سال کے دوران 1296 مرتبہ بلااشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس میں 7 بیگناہ شہر ی شہید اور 98 زخمی ہوئے ہیں۔ بھارتی سفارتکار کو آگاہ کیا گیا کہ ایل او سی پر کشیدگی میں اضافہ سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔ بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ 2003ءکے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارتی فوج کو جنگ بندی کے احترام کا حکم دے، ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری پر اس کی روح کے مطابق امن برقرار رکھے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین (یو این ایم او جی آئی پی) کو اپنا کردارادا کرنے کی اجازت دے۔









