لاہور۔5اکتوبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر مسابقتی صنعتی بنیاد فراہم کرنے کے لیے اپنی صنعتی پالیسی کا از سر نو تعین کرنا ہوگا۔ اتوار کو یہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہماری ترقیاتی حکمت عملی میں صنعت کاری کو مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ یہ نہ صرف برآمدات کے فروغ …
پاکستان کو عالمی سطح پر مسابقتی صنعتی بنیاد فراہم کرنے کے لیے صنعتی پالیسی کا از سر نو تعین کرنا ہوگا، افتخار علی ملک

مزید خبریں
لاہور۔5اکتوبر (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر مسابقتی صنعتی بنیاد فراہم کرنے کے لیے اپنی صنعتی پالیسی کا از سر نو تعین کرنا ہوگا۔ اتوار کو یہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہماری ترقیاتی حکمت عملی میں صنعت کاری کو مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ یہ نہ صرف برآمدات کے فروغ بلکہ جدت طرازی، روزگار اور ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت، نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کو مل کر کام کرنا ہو گا کیونکہ صنعتی پالیسی کو زراعت، صعنت، تعلیم، تجارت، شرح مبادلہ، معیشت ٹیکنالوجی، عالمی مارکیٹ اور مالیاتی پالیسیوں سے مربوط و ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
حکومت فعال کردار اداکرے اور مسابقت کو فروغ دے، مساوی و یکساں مواقع کو یقینی بنائے اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو دور کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیز رفتار تکنیکی تبدیلی موجودہ مسابقتی منظر نامے کی بنیاد ہے، جہاں جدت اور پیداواری نمو آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ تکنیکی ترقی اور پیداواری ڈھانچے کو بدلتی ہوئی مارکیٹ طلب اور صارفین کی ترجیحات کے مطابق بنانے کے لیے عوامی اور نجی شعبوں میں سائنسی اور تحقیقی کلچر کا فروغ بہت ضروری ہے۔
تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط، پیٹنٹ کی ترقی، گرین ٹیکنالوجیز، صاف توانائی کو اپنانے اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات اور مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک انوویشن ڈیولپمنٹ چیلنج فنڈ کا قیام اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ ریگولیٹری فریم ورک کو آسان بنانے پربڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور نئے کاروبار کی حوصلہ افزائی میں مدد ملے گی۔ انٹر کارپوریٹ ڈیویڈنڈ پر ٹیکس کے خاتمے سے بھی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ انٹرمیڈیٹ اور فائنل کنزیومر گڈز پر درآمدی ڈیوٹی کم کرکے برآمد مخالف تعصب کو بے اثر کرنا بھی فائدہ مند ہوگا۔








