پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے سائنسی منصوبہ بندی، فوری اقدامات اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے، ڈاکٹر مصدق ملک

اسلام آباد ۔30نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے سائنسی منصوبہ بندی، فوری اقدامات اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے،بدلتے ہوئے موسمیاتی رجحانات کم آمدنی والے طبقات کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے حکومت ہنگامی بنیادوں پر جامع اقدامات کر …

اسلام آباد ۔30نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے سائنسی منصوبہ بندی، فوری اقدامات اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے،بدلتے ہوئے موسمیاتی رجحانات کم آمدنی والے طبقات کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے حکومت ہنگامی بنیادوں پر جامع اقدامات کر رہی ہے۔ وہ آغا خان یونیورسٹی میں موسمیاتی لچک اور پائیدار تعمیراتی ماحول سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

کانفرنس انسٹیٹیوٹ آف گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جس میں ماحولیاتی ماہرین، پالیسی سازوں، محققین اور مختلف شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات، شہری اور دیہی بنیادی ڈھانچے پر اس کے اثرات اور کم وسائل رکھنے والی آبادیوں کے تحفظ کے لیے عملی تجاویز کا جائزہ لیا۔اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ حکومت پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے انسانی، معاشی اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایات پر 300 روزہ جامع منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے جس کا مقصد مون سون 2026 کے لیے پیشگی تیاری، ممکنہ نقصانات میں نمایاں کمی اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق آئندہ 300 دنوں میں مضبوط ڈرینج سسٹم، فلڈ مینجمنٹ، نازک انفراسٹرکچر کی بہتری اور موسمیاتی خطرات سے متاثرہ علاقوں میں فوری حفاظتی اقدامات پر خاص توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلے کے بعد فیز ٹو کا آغاز ہوگا جس میں طویل المدتی موافق پالیسیاں تشکیل دی جائیں گی اور موجودہ اقدامات کو مزید وسعت دی جائے گی۔

انہوں نے اس مرحلہ وار منصوبہ بندی کو “Fix, Grow, Build” کا واضح وژن قرار دیا۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی لچک اُس وقت ہی حقیقت بن سکتی ہے جب صوبائی حکومتیں، وفاقی ادارے، مقامی انتظامیہ اور کمیونٹیز باہمی تعاون کے ساتھ عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر فیصلہ سازی اور کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر پائیدار تبدیلی ممکن نہیں۔پاکستان کی عالمی سطح پر موسمیاتی کمزوری کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کا حصہ عالمی کاربن اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم ہے لیکن پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس صرف 10 ممالک مجموعی عالمی اخراج کے 70 فیصد سے زائد کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ انصاف پر مبنی اقدامات کے ذریعے اپنی ذمہ داری قبول کرے، ترقی پذیر ممالک کی مدد میں اضافہ کرے اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے موسمیاتی بحران کا مقابلہ کرے۔

 

مزید خبریں