اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان کھپت پر مبنی نمو سے نکل کر سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار پاکستان میں ہالینڈکے سفیررابرٹ جان سیگرٹ سے ملاقات میں کہی۔وزیرخزانہ نے سفارتی تعیناتی پر انہیں خوش آمدید کہا اور پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان طویل المدتی، تاریخی اور دوستانہ تعلقات کو …
پاکستان کھپت پر مبنی نمو سے نکل کر سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف گامزن ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ہالینڈکے سفیرسے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان کھپت پر مبنی نمو سے نکل کر سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار پاکستان میں ہالینڈکے سفیررابرٹ جان سیگرٹ سے ملاقات میں کہی۔وزیرخزانہ نے سفارتی تعیناتی پر انہیں خوش آمدید کہا اور پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان طویل المدتی، تاریخی اور دوستانہ تعلقات کو سراہا۔ انہوں نے ترقی، تجارت اور نجی شعبے پر مبنی اقدامات میں نیدرلینڈز کی مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے معیشت کے استحکام کے مشکل دور سے گزرنے کے بعد اب پائیدار استحکام کی طرف پیش رفت کی ہے، جہاں سرمایہ کاری اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان کے معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور تینوں عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے معاشی پیش منظرکوبہتر قرار دیا ہے۔
وزیر خزانہ نے سفیر کو آئی ایم ایف پروگرام میں پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کی انتظامیہ نے پاکستان کے اصلاحاتی عمل خاص طور پر ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں استحکام، سرکاری اداروں میں گورننس کی بہتری اور نجکاری کے جاری ایجنڈے کے حوالے سے اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کا بنیادی فوکس سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور نجی شعبے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے،غیر ملکی سرمایہ کاروں کو منافع کی منتقلی سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے اور اب منافع اور ڈیویڈنڈز کی ترسیل معمول کے مطابق جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اب کھپت پر مبنی نمو سے نکل کر سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف گامزن ہے تاکہ ماضی کے بار بار آنے والے معاشی اتار چڑھائو کے چکر کو توڑا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سرمایہ کاری کے بڑے مواقع خلیجی ممالک، یورپ، امریکہ اور چین کے سرمایہ کاروں کے لیے یکساں طور پر موجود ہیں جن میں معدنیات، زراعت، آئی ٹی، بنیادی ڈھانچے اور ادویات سازی کے شعبے نمایاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب پاکستان باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کی شراکت داریوں کے ذریعے پائیدار غیر ملکی سرمایہ کاری کی سمت بڑھ رہا ہے تاکہ بیرونی قرضوں اور دوطرفہ ڈیپازٹس پر انحصار کم ہو۔ سینیٹر اورنگزیب نے مزید بتایا کہ حکومت ٹیکس کے دائرے کو وسیع کرنے، غیر رسمی معیشت کو کم کرنے اور تجارت، جائیداد اور زرعی شعبوں میں مساوی ٹیکسیشن کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل ریونیو مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے تاکہ مختلف شعبوں میں مالی لیکجز کو روکا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سرکاری اداروں کی اصلاحات وفاقی محکموں کے حجم میں کمی اور منتخب اداروں کی نجکاری پر عمل جاری ہے۔ حال ہی میں ایک مالیاتی ادارے کی کامیاب نجکاری مکمل ہو چکی ہے جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے معاملات آئندہ مرحلے میں شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے نیدرلینڈز کے برآمدات پر مبنی معاشی ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بھی اپنی صنعتوں کی عالمی مسابقت میں بہتری لانی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اگلے چار سے پانچ برسوں میں بتدریج اضافی کسٹم ڈیوٹیوں میں کمی کا عمل شروع کیا ہے تاکہ پرانی تجارتی رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے اور برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس موقع پرہالینڈکے سفیر نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 50 ڈچ کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں اور نیدرلینڈز زراعت، آئی ٹی، ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
انہوں نے نیدرلینڈز کے ڈویلپمنٹ فنانس انسٹی ٹیوشن کے کردار کا بھی حوالہ دیا جو مستقبل میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے منصوبوں میں تعاون فراہم کر سکتا ہے۔ سفیر نے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو برآمدی شعبے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا اور اس حوالے سے پاکستان کی فعال سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا بھی اعتراف کیا کہ وہ نئے جی ایس پی پلس سائیکل کے آغاز کے ساتھ مثبت اور تعمیری رابطہ برقرار رکھے گی۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اپنی اصلاحاتی اور تعمیلی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک بشمول نیدرلینڈز کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گا۔ فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ باہمی اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھیں گے۔








