پاکستان نے رواں 2026 سیزن کے دوران اب تک 44,882 میٹرک ٹن آم برآمد کئے ہیں جبکہ ایران، متحدہ عرب امارات اور عمان پاکستانی آم کی تین بڑی برآمدی منڈیوں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
پاکستان کی آم برآمدات 2026 سیزن کے دوران 44,882 ٹن تک پہنچ گئیں

مزید خبریں
لاہور۔10اگست (اے پی پی):پاکستان نے رواں 2026 سیزن کے دوران اب تک 44,882 میٹرک ٹن آم برآمد کئے ہیں جبکہ ایران، متحدہ عرب امارات اور عمان پاکستانی آم کی تین بڑی برآمدی منڈیوں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق زیر جائزہ مدت کے دوران ایران 20,336 میٹرک ٹن کے ساتھ پاکستانی آم کا سب سے بڑا خریدار رہا جبکہ متحدہ عرب امارات نے 10,068 میٹرک ٹن اور عمان نے 6,359 میٹرک ٹن آم درآمد کئے۔ان تینوں منڈیوں کو مجموعی طور پر 36,763 میٹرک ٹن آم برآمد کئے گئے جو 9 جولائی تک پاکستان کی مجموعی آم برآمدات کا تقریباً 82 فیصد بنتا ہے۔دستاویزات کے مطابق 44,882 میٹرک ٹن کا حجم پورے سال کی برآمدات کے بجائے سیزن کے وسط تک کے اعداد و شمار کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ آم کی برداشت اور بیرون ملک ترسیل کا عمل ابھی جاری تھا۔
سیزن مکمل ہونے تک مجموعی برآمدی حجم میں مزید اضافے کی توقع ہے۔پاکستان نے رواں سیزن کے دوران کئی اہم اور زیادہ قدر والی بین الاقوامی منڈیوں کو بھی آم کی برآمدات جاری رکھیں۔ 9 جولائی تک برطانیہ کو 3,439 میٹرک ٹن جبکہ جرمنی کو 836 میٹرک ٹن آم برآمد کئے گئے۔اسی عرصے کے دوران سعودی عرب کو 710 میٹرک ٹن، ناروے کو 518 میٹرک ٹن اور قطر کو 418 میٹرک ٹن آم برآمد کئے گئے۔ دیگر منڈیوں میں جاپان کو 251 میٹرک ٹن، امریکہ کو 248 میٹرک ٹن، کینیڈا کو 227 میٹرک ٹن، سویڈن کو 175 میٹرک ٹن اور بحرین کو 171 میٹرک ٹن آم برآمد کئے گئے۔دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی آم منڈی میں وسیع رسائی برقرار رکھے ہوئے ہے اور تقریباً 70 ممالک کو تازہ آم برآمد کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پاکستانی آم کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے جس کے بعد افغانستان کا نمبر آتا ہے۔
یورپی یونین، برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا، چین، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ کو اہم اور زیادہ قدر والی منڈیوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے جہاں آم برآمد کرنے والوں کو مخصوص نباتاتی صحت سے متعلق درآمدی شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں۔پاکستان کی حالیہ برسوں کی آم برآمدات بھی اس شعبے کی عالمی منڈیوں کو بڑی مقدار میں آم فراہم کرنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہیں۔تازہ آم کی برآمدات 2022 میں 118,121 میٹرک ٹن تھیں جو 2023 میں تقریباً 9.4 فیصد اضافے کے ساتھ 129,230 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں۔ 2024 میں برآمدات مزید 2.6 فیصد بڑھ کر 132,587 میٹرک ٹن ہو گئیں جو دستاویزات میں شامل عرصے کے دوران بلند ترین سطح تھی۔سال 2025 میں آم کی برآمدات 116,011 میٹرک ٹن رہیں۔پاکستانی آم کی بڑی برآمدی منڈیوں کی ترتیب بھی گزشتہ برسوں کے دوران تبدیل ہوتی رہی ہے۔ 2022 میں متحدہ عرب امارات 39,596 میٹرک ٹن کے ساتھ سب سے بڑی منڈی تھا، جبکہ ایران نے 38,162 میٹرک ٹن آم درآمد کئے۔متحدہ عرب امارات نے 2023 میں بھی اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی اور پاکستان سے آم کی درآمد بڑھ کر 47,523 میٹرک ٹن ہو گئی۔ ایران نے 30,016 میٹرک ٹن آم درآمد کئے جبکہ افغانستان کو برآمدات 2022 کے 11,309 میٹرک ٹن سے دو گنا سے بھی زیادہ بڑھ کر 2023 میں 26,369 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں۔
سال 2024 میں ایران پاکستان کے آم کی سب سے بڑی منڈی بن گیا اور اس نے 53,205 میٹرک ٹن آم درآمد کئے جبکہ متحدہ عرب امارات نے 42,723 میٹرک ٹن اور افغانستان نے 19,858 میٹرک ٹن آم درآمد کئے۔سال 2025 میں متحدہ عرب امارات دوبارہ سب سے بڑی منڈی بن گیا جس نے 35,783 میٹرک ٹن آم درآمد کئے۔ ایران 27,632 میٹرک ٹن اور افغانستان 23,403 میٹرک ٹن کے ساتھ اس کے بعد رہے۔ عمان کو 10,261 میٹرک ٹن جبکہ عراق کو 8,346 میٹرک ٹن آم برآمد کئے گئے۔ دستاویزات کے مطابق 2026 کا برآمدی سیزن آم کی نسبتاً کم دستیابی کے باوجود جاری ہے۔
پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی کے مطابق رواں سال آم کی دستیابی معمول سے 30 سے 35 فیصد کم ہے جس کی بنیادی وجوہات موسمیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ ہیں جن سے پھل بننے کا عمل متاثر ہوا اور آم وقت سے پہلے درختوں سے گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا۔حکومت آم کی برآمدات کو سہولت فراہم کرنے کے لئے نباتاتی صحت کی جانچ، سرٹیفکیٹس کے بروقت اجرا، ٹریٹمنٹ سہولتوں کی نگرانی اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ کاری کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔مزید اقدامات میں ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ، ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ اور شعاعی ٹریٹمنٹ کی سہولتوں کے لئے منظوریوں میں توسیع، ٹریس ایبلٹی نظام کو مضبوط بنانا، انٹرنیشنل پلانٹ پروٹیکشن کنونشن کے ای-فائٹو ہب کے ساتھ انضمام اور باغات، ٹریٹمنٹ سہولتوں اور پیک ہاؤسز کی رجسٹریشن شامل ہیں۔








