پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت ایک نیا نظام، جو قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور عالمی مالیاتی نظام میں اپنی آواز مضبوط کرنے کا موقع دے گا، بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پاکستان کی ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے ’’بارورز پلیٹ فارم‘‘ کی حمایت

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔2اپریل (اے پی پی):پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت ایک نیا نظام، جو قرضوں کے بوجھ تلے دبے ممالک خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور عالمی مالیاتی نظام میں اپنی آواز مضبوط کرنے کا موقع دے گا، بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے’’بارورز پلیٹ فارم‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج 3.3 ارب سےزیادہ لوگ ایسے ممالک میں رہتے ہیں جو صحت یا تعلیم کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی پر زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔بارورز پلیٹ فارم عالمی قرضوں کے مسائل سے نمٹنے کے لیے قرض لینے والے ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے مقصد سے قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارم باضابطہ طور پر 15 اپریل کو واشنگٹن میں ورلڈ بینک اور ابین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سپرنگ اجلاسوں کے موقع پر لانچ کیا جائے گا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ تقریب ایک اہم سنگ میل ہوگی، جو سپین کے شہر سیویلا میں 2025 میں ہونے والی چوتھی بین الاقوامی کانفرنس برائے فنانسنگ فار ڈویلپمنٹ(FfD4) کے فیصلوں پر عملدرآمد کی جانب پیش رفت ہے، جس کا مقصد عالمی مالیاتی نظام کو پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز ) کے مطابق بنانا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ یہ پلیٹ فارم قرض لینے والے ممالک کے لیے ایک فورم ہوگا، لیکن اس کی اصل افادیت وسیع تر عالمی حمایت سے بڑھے گی۔پاکستانی مندوب نے ترقی پذیر ممالک کو درپیش قرضوں کے شدید دباؤ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری کئی معیشتیں بڑھتے ہوئے قرضوں کی ادائیگی، سخت مالی حالات اور محدود وسائل کے باعث پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کے مسائل صرف اندرونی وجوہات کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی مالیاتی اور قرضوں کے نظام کی ساختی کمزوریوں اور عدم توازن کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ایک ایسے عمل کی شروعات ثابت ہوگا جو قرضوں کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو موثر طور پر مضبوط بنانے میں مدد دے گا اور وسیع تر عالمی مالیاتی نظام پر ہونے والی بات چیت کو بھی آگے بڑھائے گا۔








