پاکستان کی طرف سے کیوبا کے خلاف امریکی پابندیاں ختم کرنے کے مطالبے کا اعادہ

اقوام متحدہ۔31اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے کیوبا کے خلاف 32 سالہ امریکی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے ۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے اقوام متحدہ کے 193 رکنی جنر ل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کیوبا میں بنیادی اشیا کی قلت بدترین معاشی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کا نفاذ غیر نتیجہ …

اقوام متحدہ۔31اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے کیوبا کے خلاف 32 سالہ امریکی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے ۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے اقوام متحدہ کے 193 رکنی جنر ل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کیوبا میں بنیادی اشیا کی قلت بدترین معاشی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ اقتصادی پابندیوں کا نفاذ غیر نتیجہ خیز اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مقاصد اور اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس موقع پر جنرل اسمبلی نے کیوبا پر امریکی پابندیوں کے خاتمے کے مطالبے پر مبنی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کر لیا۔جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں قرار داد کے حق میں 187 ووٹ ڈالے گئے جبکہ صرف دو ممالک امریکا اور اسرائیل نے قرار داد کی مخالفت کی اور مالدووا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اس موقع پر پاکستانی مندوب عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان کیوبا کے اپنے وسائل خصوصاً خوراک اور ادویات کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی)، ناوابستہ تحریک (این اے ایم) اور 77 کے گروپ (ترقی پذیر ممالک) کی جانب سے بھی قرار داد کی حمایت کی گئی اور کیوبا میں جاری معاشی بحران پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ کیوبا پرامریکی پابندیوں جیسے اقدامات 2030 کے ایجنڈا برائے پائیدار ترقی میں شامل ہمارے اجتماعی اہداف کے حصول کے لیے نقصان دہ ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ پابندی کا خاتمہ کیوبا کے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہو گا، اور کیوبا کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہونے میں مدد ملے گی۔

جنرل اسمبلی کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد کی شرائط کے مطابق اسمبلی نے دیگر ریاستوں پر زور دیا کہ وہ کیوبا کی ناکہ بندی کی حمایت میں قوانین یا اقدامات کو جلد از جلد منسوخ یا کالعدم قرار دے دیں۔ کیوبا کے وزیر برائے خارجہ امور برونو روڈریگوز پیریلا نے اس موقع پر بتایا کہ ان کے ملک کو گزشتہ 18 سال کے دوران امریکی پابندیوں کی وجہ سے 252 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔