پاکستان کی فلسطین کی خودمختاری کو مجروح کرنے کے اسرائیلی اقدام کی مذمت

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے قابض اسرائیل کی جانب سے مقننہ میں متعارف کرائے گئے ایک مسودہ قانون کے ذریعے فلسطین میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سمیت مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر اپنی نام نہاد "خودمختاری" کو بڑھانے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، …

اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے قابض اسرائیل کی جانب سے مقننہ میں متعارف کرائے گئے ایک مسودہ قانون کے ذریعے فلسطین میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سمیت مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر اپنی نام نہاد "خودمختاری” کو بڑھانے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

بیان کے مطابق ایسے اشتعال انگیز اور غیر قانونی اقدامات خطے میں امن و استحکام کے حصول کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدام کرے اور اسرائیلی قابض افواج کو بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام کے حق خودارادیت سمیت ان کے حقوق کو برقرار رکھنے اور فلسطینیوں کے لیے امن، انصاف اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

پاکستان فلسطینی کاز کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کرتا ہے، جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار، قابل عمل اور ملحقہ ریاست فلسطین کا قیام بھی شامل ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔