:پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں مالی سال 2025-26 کے دوران 0.26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد برآمدات کا مجموعی حجم 17.932 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات مالی سال 2026 کے دوران 0.26 فیصد اضافہ سے 17.932 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں مالی سال 2025-26 کے دوران 0.26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد برآمدات کا مجموعی حجم 17.932 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔ادارہ برائے شماریات پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال جولائی 2025 تا جون 2026 کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات مالی سال 2024-25 کی برآمدات 17.887 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 17.932 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔اعداد و شمار کے مطابق کاٹن یارن کی برآمدات میں 12.40 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 680.700 ملین ڈالر سے بڑھ کر 765.124 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات 3.87 فیصد اضافے کے ساتھ 4.128 ارب ڈالر سے بڑھ کر 4.288 ارب ڈالر ہو گئیں۔ اسی طرح خام کپاس کی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا جو 199 فیصد بڑھ کر 0.871 ملین ڈالر سے 2.606 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔دوسری جانب بعض ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔
کاٹن کلاتھ کی برآمدات 7.55 فیصد کم ہو کر 1.808 ارب ڈالر سے 1.672 ارب ڈالر رہ گئیں جبکہ کاٹن یارن کے علاوہ دیگر دھاگے کی برآمدات 13.92 فیصد کمی کے بعد 34.042 ملین ڈالر سے 29.305 ملین ڈالر پر آ گئیں۔اسی طرح نٹ ویئر کی برآمدات 0.88 فیصد کمی کے ساتھ 5.010 ارب ڈالر سے 4.966 ارب ڈالر رہیں، بیڈ ویئر کی برآمدات 0.01 فیصد کی معمولی کمی کے ساتھ 3.112 ارب ڈالر رہیں جبکہ تولیے کی برآمدات 1.93 فیصد کم ہو کر 1.082 ارب ڈالر سے 1.061 ارب ڈالر ہو گئیں۔خیموں، کینوس اور ترپال کی برآمدات میں بھی 3.81 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 124.870 ملین ڈالر سے کم ہو کر 120.118 ملین ڈالر رہ گئیں تاہم دیگر تمام ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 8.67 فیصد اضافہ ہوا جو 727 ملین ڈالر سے بڑھ کر 790 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ سالانہ بنیادوں پر جون 2026 میں ٹیکسٹائل برآمدات میں 16.71 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 1.521 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.267 ارب ڈالر رہ گئیں۔ماہانہ بنیادوں پر بھی جون 2026 میں ٹیکسٹائل برآمدات 22.72 فیصد کم رہیں جو مئی 2026 کے 1.640 ارب ڈالر کے مقابلے میں 1.267 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔








