پاکستان کی پہلی ’’اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ 2026‘‘ جاری، آزادیوں، حکمرانی اور عوامی اعتماد کا جامع جائزہ پیش ، 77 فیصد شہریوں کا پیشہ منتخب کرنے کی آزادی پر اظہار اطمینان
پاکستان کی پہلی ’’اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ 2026‘‘ جاری، آزادیوں، حکمرانی اور عوامی اعتماد کا جامع جائزہ پیش ، 77 فیصد شہریوں کا پیشہ منتخب کرنے کی آزادی پر اظہار اطمینان

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):پاکستان میں حکمرانی اور عوامی پالیسی کے حوالے سے ملک کی پہلی اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ۔پاکستان 2026 کا اجرا کردیا گیا ۔ سیاسی شہری ،معاشی ، ڈیجیٹل ، قانونی اور سماجی آزادیوں کے تفصیلی جائزہ پر مبنی جامع قومی رپورٹ آزادیوں کی موجودہ صورتحال کی ایک متوازن تصویر پیش کرتی ہے۔۔پاکستان میں ورلڈ اکنامک فورم کے کنٹری انسٹی ٹیوٹ پارٹنر مشال پاکستان (Mishal Pakistanکی جانب سے تیار کی گئی یہ رپورٹ آزادی عوامی اعتماد اداره جاتی کارکردگی شہری با اختیاری اور حکمرانی کے نتائج کو جانچنے کے لیے ملک کا پہلا شواہد پر مبنی قومی معیار فراہم کرتی ہے۔
رپورٹ کی رونمائی انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں پیر کو چین پاکستان اسٹڈی سینٹر کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔ تقریب میں اعلیٰ حکومتی شخصیات، ارکان پارلیمان، سفارتی برادری ، ماہرین تعلیم ، میڈیا نمائندگان، سول سوسائٹی اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی۔وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر ڈائریکٹر چین پاکستان اسٹڈی سینٹر (CPSC) آئی ایس ایس آئی ڈاکٹر طلعت شبیر نے پالیسی سازی میں شواہد پر مبنی تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوامی تصورات حقوق اور حکمرانی کے بارے میں مستند تحقیق قومی مکالمے کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
بعد ازاں سفیر خالد محمود چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی نے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے خیالات اور توقعات کو سمجھنا مضبوط اداروں اور بہتر حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔شرکا کو آگاہ کیا گیاکہ اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ – پاکستان 2026 آزادی کا جائزہ چھ اہم شعبوں میں لیتی ہے جن میں سیاسی آزادی، شہری آزادیوں، قانون کی حکمرانی اور انصاف تک رسائی، معاشی آزادی، ڈیجیٹل آزادی اور معلومات تک رسائی اور سماجی شمولیت صنفی مساوات اور عوامی اعتماد شامل ہے۔ رپورٹ میں آئینی و قانونی تجزیے ادارہ جاتی اشاریے بین الاقوامی تقابلی جائزے، ماہرین کی آراء اور ملک بھر میں تقریباً 2,000 افراد پر مشتمل نیشنل فریڈم پرسیپشن اور ٹرسٹ سروے کے نتائج شامل کیے گئے ہیں۔رپورٹ پاکستان میں آزادیوں کی موجودہ صورتحال کی ایک متوازن تصویر پیش کرتی ہےجس میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ ان شعبوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں مزید توجہ درکار ہے۔
اہم نتائج کے مطابق77 فیصد شہریوں کا خیال ہے کہ وہ اپنی پسند کے پیشے اور روزگار کا انتخاب کرنے کے لیے آزاد ہیں،75 فیصد کا ماننا ہے کہ کاروبار غیر ضروری حکومتی مداخلت کے بغیر چلائے جا سکتے ہیں،75 فیصد نے خواتین کی ترقی اور مواقع کے حوالے سے مثبت رائے کا اظہار کیا،65 فیصد نے مذہبی آزادی اور مذہبی تحفظات کے حوالے سے مثبت خیالات کا اظہار کیا،69 فیصد کے نزدیک قومی منصوبہ بندی کم از کم پانچ سال یا اس سے زیادہ عرصے پر محیط ہونی چاہیے ۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی تیزی سے جاری ہے۔ ملک میں اس وقت 190 ملین سے زائد موبائل کنکشنز ، 140 سے 150 ملین براڈ بینڈ صارفین اور تقریباً 70 ملین فعال سوشل میڈیا صارفین موجود ہیں۔ پاکستان کی آئی ٹی اور فری لانسنگ برآمدات 3 ارب امریکی ڈالر سالانہ سے تجاوز کر چکی ہیں، جو ڈیجیٹل معیشت میں نئے مواقع کی عکاسی کرتی ہیں۔سروے سے معلوم ہوا کہ پاکستانی شہری معلومات کے حصول کے لیے تیزی سے ڈیجیٹل ذرائع پر انحصار کر رہے ہیں۔
24.8 فیصد افراد فیس بک کو اپنا بنیادی ذریعہ معلومات سمجھتے ہیں جبکہ 19.9 فیصد واٹس ایپ ، 18 فیصد آن لائن نیوز پورٹلز اور ویب سائٹس جبکہ 15 فیصد ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور ٹیلی ویژن سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔رپورٹ میں ڈیجیٹل گورننس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ جائزہ مدت کے دوران پاکستان نے سائبر سکیورٹی، نفرت انگیز مواد غلط معلومات انتہا پسندانہ مواد اور غیر قانونی آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو 15,391 سے زائد درخواستیں ارسال کیں۔ جن میں سے تقریباً 45.8 فیصد پر پلیٹ فارمز نے کارروائی کی۔رپورٹ کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا کے متحرک ترین میڈیا اور اطلاعاتی نظاموں میں سے ایک کا حامل ہے، جہاں 120 سے زائد لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز سینکڑوں اخبارات اور ایک تیزی سے بڑھتا ہوا ڈیجیٹل میڈیا سیکٹر موجود ہے۔
صنفی شمولیت کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت تقریباً 20 تا 25 فیصد ہے جبکہ مردوں کی لیبر فورس شمولیت 65 تا 68 فیصد کے درمیان ہے۔ اس کے باوجود سروے نتائج خواتین نوجوانوں اور کم نمائندگی رکھنے والے طبقات کے لیے زیادہ مواقع اور شمولیت کے حق میں مضبوط عوامی حمایت ظاہر کرتے ہیں۔رپورٹ انصاف کے شعبے میں درپیش چیلنجز کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ پاکستان کی عدالتوں میں اس وقت 22 لاکھ سے زائد مقدمات زیر التواء ہیں جبکہ جیلوں میں 102,000 سے زائد قیدی موجود ہیں، جو انصاف تک رسائی اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے پاکستان کی پہلی فریڈم رپورٹ کے اجرا کا خیر مقدم کیا اور کہاکہ آزادی اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب شہری خود کو سنا گیا محسوس کریں ادارے جوابدہ ہوں اور پالیسی سازی شواہد کی بنیاد پر کی جائے۔
یہ رپورٹ اس قومی مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئینی نظام بنیادی حقوق کے تحفظ کی مضبوط ضمانت فراہم کرتا ہے اور حکومت انصاف تک رسائی شفافیت، احتساب اور شہری شمولیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔رپورٹ پیش کرتے ہوئےشریک مصنف اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مشال پاکستان امیر جہانگیر نے کہا کہ کئی دہائیوں تک پاکستان کا جائزہ زیادہ تر بیرونی اشاریوں اور عالمی رپورٹس کی بنیاد پر لیا جاتا رہا ہے۔ اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ پاکستان کی اپنی آئینی، اداره جاتی، معاشی اور سماجی حقیقتوں کی بنیاد پر آزادیوں کو سمجھنے کی پہلی مقامی اور شواہد پر مبنی کوشش ہے۔رپورٹ کی شریک مصنف پری و ش چوہدری صدر آگاهی و گورننس ماہر نے کہا کہ آزادی در اصل وقار ،مواقع ، شرکت ، شمولیت اور اعتماد کا نام ہے۔
شہری آج آزادی کو معاشی مواقع، ڈیجیٹل رسانی اداره جاتی انصاف تحفظ اور سماجی شمولیت سے جوڑتے ہیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پارلیمنٹیرینز کمیشن فار ہیومن رائٹس شفیق چوہدری نے کہا کہ آزادی کو صرف آئینی ضمانتوں کے تناظر میں نہیں بلکہ شہریوں کے عملی تجربات اور اداروں کی کارکردگی کے تناظر میں بھی سمجھنا ضروری ہے۔آئزن ہاور فیلو ورلڈ اکنامک فورم کی ینگ گلوبل لیڈر اور سابق وزیر برائے ترقی نسواں و سماجی بہبود آزاد جموں و کشمیر فرزانہ یعقوب نے خواتین کی شمولیت با اختیاری اور مساوی مواقع کو ایک آزاد اور ترقی پسند معاشرے کی بنیادی شرط قرار دیا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان مضبوط آئینی بنیادوں ادارہ جاتی لچک نوجوان آبادی کاروباری صلاحیت اور تیز رفتار ڈیجیٹل ترقی کا حامل ملک ہے۔
تاہم مستقبل کی کامیابی کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ آئینی حقوق حکمرانی کی اصلاحات اور معاشی مواقع کو کس حد تک شہریوں کے عملی تجربات عوامی اعتماد اور جامع ترقی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کے پہلے قومی فریڈم بینچ مارک کے طور پر اسٹیٹ آف فریڈم رپورٹ – پاکستان 2026 مستقبل میں پیش رفت کی پیمائش اور آزادی حکمرانی حقوق شمولیت اداره جاتی ترقی اور جمہوری استحکام کے حوالے سے قومی مکالمے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
وضح رہے کہ مشال پاکستان ایک معروف عوامی پالیسی گورننس مسابقت اور سٹریٹجک کمیونیکیشن ادارہ ہے جو معاشی ترقی اداره جاتی اصلاحات، پائیداری، میڈیا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں کام کرتا ہے۔ پاکستان میں ورلڈ اکنامک فورم کے کنٹری پارٹنر انسٹیٹیوٹ کے طور پرمشال پاکستان قومی اور عالمی سطح پر تحقیق پالیسی مکالمے اور اسٹیک ہولڈر انگیجمنٹ میں فعال کردار ادا کرتا ہے۔








