اسلام آباد ۔ 15 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ پاکستان کی 75 فیصد برآمدات زراعت پر مشتمل ہیں، حکومت نے کورنا وباء کے دوران بہت سے پیکجز دیئے ہیں، پاکستان کو زلزلے، سیلاب اور خشک سالی جیسے بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف اے او کے ورچوئل …
پاکستان کی 75 فیصد برآمدات زراعت پر مشتمل ہیں، حکومت نے کورنا وباء کے دوران بہت سے پیکجز دیئے ہیں، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام کا اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 15 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے کہا ہے کہ پاکستان کی 75 فیصد برآمدات زراعت پر مشتمل ہیں، حکومت نے کورنا وباء کے دوران بہت سے پیکجز دیئے ہیں، پاکستان کو زلزلے، سیلاب اور خشک سالی جیسے بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف اے او کے ورچوئل ریجنل مشاورتی تکنیکی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تقریباً 75 فیصد برآمدات زراعت پر مبنی ہیں، پاکستان کو زلزلے، سیلاب اور خشک سالی جیسے بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ اب کوویڈ۔19 ہمیں نقصان پہنچا رہی ہے۔ سیّد فخر امام نے کہا کہ اس وبا کے دوران ہماری حکومت نے بہت سے پیکیج دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیکیج کے تحت کسانوں کوکھاد پر سبسڈی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی قرضوں پرشرح سود میں کمی لائی جائے گی، کاٹن سیڈز اور سفید مکھی کے خاتمہ کیلئے کیڑے مار ادویات کی خریداری اور مقامی طور پر تیار کردہ ٹریکٹروں پرسیلز ٹیکس میں سبسڈی پیکیج کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو کھادوں کی خریداری پر37 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی، زرعی پیکیج کے تحت زرعی قرضوں پر مارک اپ میں کمی کیلئے 8.8 ارب روپے مختص۔ انہوں نے کہا کہ کاٹن سیڈز وسفید مکھی کے خاتمہ کیلئے کیڑے مار ادویات پر سبسڈی کے ضمن میں بالترتیب 6 ارب اور 2.5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اس پیکیج میں مقامی طورپرتیارکردہ ٹریکٹروں پر سیلز ٹیکس کی مد میں 2.5 ارب روپے کی سبسڈی شامل ہے۔








