پاکستان کے اعلیٰ سطحی حکومتی وفد کی جنیوا میں پولیو انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ کے اجلاس میں شرکت ، پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ

پاکستان کے اعلیٰ سطحی حکومتی وفد نے اس ہفتے جنیوا میں پولیو انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی ) کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور وائرس کی منتقلی روکنے کے لئے حالیہ پیشرفت اور حکمتِ عملی سے آگاہ کیا۔

اسلام آباد۔27جولائی (اے پی پی):پاکستان کے اعلیٰ سطحی حکومتی وفد نے اس ہفتے جنیوا میں پولیو انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی ) کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور وائرس کی منتقلی روکنے کے لئے حالیہ پیشرفت اور حکمتِ عملی سے آگاہ کیا۔گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو کے تحت قائم آزاد نگرانی و جائزہ بورڈ نے 20 تا 23 جولائی تک جنیوا میں عالمی پولیو مہم کا جائزہ لیا ۔پاکستان نے 1994 کے بعد سے طبی سائنس اور جان بچانے والی ویکسین کی بدولت پولیو کے کیسز میں 99.8 فیصد کمی حاصل کی ہے۔ 1990 کی دہائی کے آغاز میں جہاں سالانہ اندازاً 20 ہزار کیسز رپورٹ ہوتے تھے، وہیں 2025 میں یہ تعداد 31 رہی، جبکہ 2026 میں اب تک صرف 3 کیسز سامنے آئے ہیں۔

پاکستانی وفد میں وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان، چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ، نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر محمد انورالحق، ای او سی سندھ کے کوآرڈینیٹر شہریار میمن اور پولیو پروگرام کی اعلیٰ قیادت شامل تھی۔پاکستان کے لئے مختص اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے کہا کہ پاکستان پولیو وائرس کی منتقلی روکنے اور دنیا کو پولیو سے پاک بنانے کے مشترکہ ہدف کے لیے اپنی ذمہ داری سے پوری طرح آگاہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران وائرس کی منتقلی میں نمایاں کمی آئی ہے، جو حکومت کی مضبوط قیادت، موثر ڈیٹا کے استعمال، بہتر احتساب، اعلیٰ معیار کی مہمات اور مشکل حالات میں بھی ہر بچے تک پہنچنے والے فرنٹ لائن ورکرز کی غیرمعمولی خدمات کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ پیشرفت حوصلہ افزا ہے تاہم باقی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے حکومت پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پولیو کے خاتمے کی تمام سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کر رہی ہے اور وزارتِ صحت معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری اور بنیادی صحت کی سہولیات خصوصاً محروم علاقوں میں، مزید مضبوط بنانے کے لئے اپنی قیادت کا کردار جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پولیو کا خاتمہ اب صرف ایک پروگرام کی ذمہ داری نہیں بلکہ وزیراعظم کی قیادت میں پوری حکومت کا مشترکہ قومی مشن ہےجس میں وفاق، صوبے اور ضلعی سطح پر مربوط انداز میں کام کیا جا رہا ہے تاکہ ہر مہم معیار، تسلسل اور احتساب کے ساتھ مکمل ہو۔وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ پاکستان میں وائرس کی منتقلی کا دائرہ مسلسل محدود ہو رہا ہے اور پولیو کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2024 میں 74 کیسز کے مقابلے میں 2025 میں 31 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ رواں سال اب تک صرف 3 کیسز سامنے آئے ہیں۔انہوں نے اس کامیابی کا سہرا شواہد اور ڈیٹا پر مبنی حکمتِ عملی، اعلیٰ معیار کی ویکسی نیشن مہمات، توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کے ساتھ موثر تعاون، کمیونٹی کی بہتر شمولیت اور مضبوط بیماری نگرانی کے نظام کو دیا۔جنوبی خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی پیچیدہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے عائشہ رضا فاروق نے بتایا کہ وہاں بچوں تک رسائی کے لئے مقامی ٹیموں کے ذریعے چھوٹے اور ہدفی اقدامات، رہ جانے والے بچوں کی موثر نشاندہی، بار بار ویکسی نیشن اور غذائیت، معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری، صاف پانی، صفائی اور ماں و بچے کی صحت کی خدمات کی فراہمی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیو وائرس اب چند انتہائی مشکل علاقوں تک محدود ہو چکا ہے خصوصاً جنوبی خیبرپختونخوا، جہاں سکیورٹی مسائل کے باعث ہزاروں بچے ویکسین سے محروم رہ جاتے ہیں۔ حکومت ڈیٹا پر مبنی، مقامی نوعیت کی موثر حکمتِ عملی کے ذریعے ہر رہ جانے والے بچے تک پہنچ کر وائرس کا خاتمہ یقینی بنائے گی۔عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ سائنسی شواہد واضح کرتے ہیں کہ پولیو کا خاتمہ اب ہماری پہنچ میں ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ پیچیدہ چیلنجز کا مقابلہ عزم، نظم و ضبط اور شواہد پر مبنی فیصلوں سے کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزرائے اعلیٰ، چیف سیکرٹریز، حکومت کی مسلسل قیادت، مزید موثر اقدامات اور شراکت داروں کے تعاون سے پاکستان پولیو وائرس کی منتقلی روکنے میں کامیاب ہوگا۔